ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 28 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 28

28 بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم آپ نے ابتداء میں لیکھرام کو ایسا کرنے سے روکا۔اسے بہت سمجھایا۔محبت سے، پیار سے، دلائل و براہین سے مگر وہ اس خمیر سے پیدا نہ ہوا تھا کہ باز آ جائے۔اس کے اس طرز عمل میں بجائے کمی کے اضافہ ہی ہوتا گیا۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی جب لیکھرام کی شوخی اور بے ادبی حد سے بڑھنے لگی اور اس کے نہایت ہی مکر وہ طرزعمل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل چھلنی ہونے لگا۔تب آپ نے نہایت پر شوکت الفاظ میں اسے للکارا اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اس کی ہلاکت کی پیشگوئی کی۔اس طرح آپ نے جہاں ہزاروں لاکھوں گم گشتگان طریقت کو "واصل "بنایا وہاں خدا داد لقب "رڈر یعنی فنا کرنے والا کے پیش نظر اس راہ کے کانٹوں کو بھی صاف کیا تا کہ "خس کم جہاں پاک " کا نمونہ ہوں اور لیکھر ام مذکور بھی ان میں سے ایک ہے جو کہ اعجاز مسیحا کا کشتہ بنا اور اسی شوخی ، بے ادبی اور گستاخی کے پیش نظر وہ اسلام کے حق میں صداقت کی نشانی بن کر نہایت حسرت اور دکھ کی موت مرا اور زبان کی چھری استعمال کرنے والے کولوہے کی چھری کا مزا چھکنا پڑا۔اچھا نہیں ستانا، پاکوں کا دل دکھانا گستاخ ہوتے جانا بد کی سزا یہی ہے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مقامات پر اس کے اس بد رویہ کا ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔" پس خدا نے مجھ کو اطلاع دی کہ وہ تو گوشت یعنی زبان کی چھری اسلام پر چلا رہا ہے مگر خدا تعالیٰ لوہے کی چھری سے اس کا کام تمام کرے گا۔سوایسا ہی وقوع میں آیا۔" ( قادیان کے آریہ اور ہم از روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 429) پھر فرمایا:۔واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بھی بدن کا نپتا ہے اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں۔کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔" (اشتہار 20 فروری 1893 ء از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 373) پھر فرمایا " جس نے پیشگوئی کی میعاد میں کوئی تضرع اور خوف ظاہر نہ کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہو کر بازاروں اور کوچوں اور شہروں اور دیہات میں تو ہین اسلام کرنے لگا۔تب وہ میعاد کے اندر ہی اپنی اس بد اعمالی کی وجہ سے پکڑا گیا اور وہ زبان اس کی جو گالی اور بد زبانی میں چھری کی طرح چلتی تھی اسی چھری سے اس کا کام تمام کر دیا۔" ( تذکرۃ الشہادتین از روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 42-43) اسی امر کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اور موقع پر آپ فرماتے ہیں:۔