ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 487
487 اسلام نے ہی غالب آنا ہے اور معاندین کی پکڑ ہوتی ہے گو اس حوالہ سے گاہے بگا ہے خطبات کی تفصیل میں حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا موقف آپکا ہے۔تاہم کتاب کے اخیر میں اس کا اظہار اس لئے ضروری ہے کہ معاندین و مخالفین اسلام جتنا ز ور چاہیں لگالیں۔اسلام ہر حال غالب آنے کے لئے بنایا گیا ہے۔اور ان کی پکڑ کے سامان ہونے ہیں۔حضور انور نے 16 اکتوبر 2009ء کے خطبہ میں فرمایا:۔آنحضرت پر استہزاء کرنے والے اللہ کی پکڑ سے محفوظ نہیں " آج بھی جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں استہزاء اور نازیبا کلمات کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے محفوظ نہیں ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں یالا مذہب ہیں۔قرآن کریم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کے علاوہ باقی انبیاء کے واقعات بھی بیان کرتا ہے کہ جب بھی مخالفین نے ان انبیاء کو دکھ پہنچائے تو اللہ تعالیٰ نے ایک مدت کے بعد، کچھ عرصے کے بعد، انہی کی تدبیریں ان پر الٹا دیں اور اپنے انبیاء کی حفاظت فرمائی۔انسانی عقل اُس انتہا تک نہیں پہنچ سکتی جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کے حق میں دشمنوں کی سزا کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔" خطبات مسرور جلد 7 صفحه 490) دشمنان اسلام، اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے حضور انور نے 23 جنوری 2009 ء میں فرمایا:۔" آج تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر مخالفین اسلام نہایت گھٹیا اور رقیق حملے کرتے اور الزام لگاتے ہیں لیکن اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔اور آج بھی مسلمانوں میں ایک گروہ ہے اور بڑی تعداد میں ہے جو آپ کی لائی ہوئی شریعت کو اصل حالت میں اپنی زندگیوں پر لاگو کر رہا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت تک کے لئے بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت زندہ ہے اور زندہ رہے گی انشاء اللہ۔اور دشمنان اسلام کی کوششیں اور دھمکیاں نہ پہلے اسلام کا کچھ بگاڑسکی تھیں نہ اب بگا ڑسکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ان کے لئے کافی ہوں۔اپنے بندوں کو ان کے شر کے بد انجام سے ہمیشہ بچاؤں گا" (خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 40)