ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 486 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 486

486 کو رازق نہیں سمجھتے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے کہا تھا کہ جو لوگ سور کے گوشت پکانے یا بیچنے یا براہ راست اس کے کاروبار میں ملوث ہیں، اس سے منسلک ہیں، وہ یہ کام نہ کریں یا اگر کرنا ہے تو پھر ایسے لوگوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔" (خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 134) سود کی ممانعت کے حوالے سے احمدیوں کو نصیحت مسلمان اور مسلمان حکومتیں جس طرح سود کے نظام میں جکڑی چلی جارہی ہیں۔وہ عالم اسلام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔جو اسلامی تعلیم کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جہاں ان قوموں کو اختباہ فرمایا وہاں احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جون 2007 ء میں فرمایا۔" خدا تعالیٰ نے سود کی بڑی شدت سے مناہی کی ہے کیونکہ یہ غریب کو ہمیشہ کے لئے غربت کی دلدل میں دھنسا تا چلا جاتا ہے۔اس آیت میں جس میں سود کا ذکر کیا گیا ہے اس سے پہلی آیت کے ساتھ موازنہ بھی مل جاتا ہے کہ سود تمہیں کیا دیتا ہے اور غریبوں کے حق کے طور پر ان کی زکوۃ اور صدقات اور تحفوں سے جو مدد کرتے ہو اس سے تمہیں کیا ملتا ہے۔پہلی بات تو یا درکھو کہ جو خرج اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یقینی طور پر اس میں تمہاری کامیابی ہے جس کے نظارے اس دنیا میں بھی دیکھو گے اور اگلے جہان میں بھی اور سب سے بڑی کامیابی تو یہی ہے کہ اللہ راضی ہو گیا۔دوسری کامیابی ، پر امن اور سلامتی سے پر معاشرے کا قیام ہو گا۔پھر مرنے کے بعد اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے دائمی جنتوں کے وارث بنو گے جہاں تمہیں ہمیشہ سلام اور سلام کے تحفے ملیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے جوسود کے کاروبار میں ملوث ہوں وہ کیا حاصل کرتے ہیں۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ اعلان جنگ کرتا ہے اور جن کے خلاف اللہ تعالیٰ اعلان جنگ کر دے ان کا نہ اس دنیا میں کوئی ٹھکانہ ہے اور آخرت میں جو ان کی سزا ہے وہ تو ہے ہی۔پھر سود کی وجہ سے معاشرے کا امن کس طرح برباد ہو رہا ہے۔جو غریب ہے وہ غربت کی چکی میں پستا چلا جاتا ہے۔پینے والا اس سود کے پیسے سے اپنی تجوریاں بھر رہا ہوتا ہے۔اور بظاہر بے تحاشہ پیسہ کمانے والا جو شخص ہے وہ اپنے خزانے بھر رہا ہوتا ہے، لیکن دل کا چین اور سکون ان میں نہیں ہوتا۔کئی لوگ ہیں جو لکھتے ہیں اور کہتے ہیں بلکہ پاکستان میں میں نے دیکھے بھی ہیں کہ پیسوں کے باوجو د راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔تو یہ عموماً سود ہی ہے جس نے ایک ملک کے معاشرے میں ملکی سطح پر بھی انفرادی سطح پر بھی پیسے کو ایک خاص طبقے کے گرد منتقل کر دیا ہے، ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔اور عموماً امیر ملکوں میں بھی جہاں بظاہر اچھے حالات ہیں، اسی سود کی وجہ سے تقریبا ہر شخص یا اکثریت قرض کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔اس کو محسوس نہیں کرتے اور اپنی زندگی میں اس سے باہر نہیں نکل سکتے۔" خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 241-242)