ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 485
485 ہوتے ہیں جو بذات خود شرک کے برابر ہے، تقویٰ تو دور کی بات ہے۔پس اگر ہم میں ایسے چند ایک بھی ہوں تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو اللہ سے دُور کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کو بھی بدنام کرنے والے بنا رہے ہوتے ہیں اور جماعت کا جو وقار حکومتی اداروں اور لوگوں میں ہے اس کو کم کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جب انسان خدا پر سے بھروسہ چھوڑتا ہے تو دہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان اسی کا ہوتا ہے جو اسے ہر بات پر قادر جانتا ہے۔پس ان معیاروں کو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں اور جن کی بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تلقین فرمائی ہے۔جو لوگ غلط معلومات دے کر چند پاؤنڈ حکومت سے لے لیتے ہیں گویا وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا رازق خدا انہیں بلکہ ہماری چالاکیاں ہیں۔اس بات کی میں یہاں وضاحت کر دوں کہ حکومتی اداروں کو بعض ایسے لوگوں پر شک پڑنا شروع ہو گیا ہے اور یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے اپنا دائرہ تنگ کرتے ہیں۔ابھی تک ان اداروں پر یہی تاثر ہے کہ احمدی دھو کہ نہیں کرتے۔کوئی ایک بھی اس قسم کا دھوکہ دہی میں ان کے ہاتھ لگ گیا تو اچھے بھلے شریف احمدی جو صرف اپنا حق لیتے ہیں وہ بھی پھر متاثر ہوں گے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت پر اعتماد علیحدہ ختم ہوگا۔میں نے تو امیر صاحب کو کہہ دیا ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کا اگر پتہ چلے تو اس سے چندہ لینا بند کر دیں۔ایسے لوگوں سے چندہ نہ لینے سے اول تو جماعتی چندوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا انشاء اللہ اور اگر پڑے بھی تو اس کا پھر کوئی فرق نہیں پڑتا۔کم از کم اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہوا مال تو پاک ہوگا۔پس میں ایسے لوگوں سے جو چاہے چند ایک ہوں ، یہی کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالی کو رزاق نہیں سمجھنا تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے دین کے لئے آپ کے مال کی ضرورت نہیں ہے۔پھر آپ کا معاملہ اللہ سے ہے، جس طرح بھی چاہے اللہ سلوک کرے۔" خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 232-233) سور کا گوشت کھانے یا بیچنے والوں سے چندہ نہ لیا جائے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جہاں غیروں کی طرف سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات یا اسلام بارے توہین آمیز حرکات پر فوری اقدام فرمائے۔خطبات ارشاد فرمائے۔وہاں احمدیت کے اندر بھی اگر کسی احمدی نے غیر اسلامی حرکت کی جو اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی تھی تو آپ کی رسول خدا سے محبت کے تقاضوں نے یہاں بھی سخت ایکشن لینے پر آپ کو مجبور کیا۔جیسے سور یا شراب کا کاروبار کرنے والوں سے چندہ لینے سے انتظامیہ کو روک دیا۔آپ مورخہ 13 اپریل 2007 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ جائز ہیں یا نا جائز ہیں ، ان کو چھوڑ نا بڑا مشکل ہے۔وہ اللہ تعالیٰ