ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 484 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 484

484 کی طرف جانے شروع ہوئے تو اس کی وجہ سے ان میں نرمی پیدا ہونی شروع ہوگئی ، ان کے خوف بھی دور ہوئے۔وہی لوگ جو اسلام کو شدت پسند اور امن بر باد کرنے والا مذہب سمجھتے تھے اسلام کی سلامتی کی تعلیم سے متاثر ہورہے ہیں۔۔۔۔اگر ان لوگوں میں مذہب سے دلچسپی نہیں ہے تو کم از کم ایسے لوگوں کے ذہنوں سے اسلام کے خلاف جوز ہر بھرا گیا ہے وہ نکل جاتا ہے۔اگر ہمسائیگی کی وسعت ذہن میں ہو تو پوری دنیا میں سلامتی اور صلح کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔دنیا سے فساد دور ہو سکتا ہے۔" غیر اسلامی حرکات خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 229-231) میں ملوث احمدیوں سے لاتعلقی کا اظہار حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اسلام کی غیرت وحمیت میں غیروں کو اسلام و بانی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر تنبیہ فرما رہے ہیں۔جس کی ایک جھلک ہم گزشتہ صفحات پر درج کر آئے ہیں۔جماعت کے اندر بھی آپ کی اسلام کے ساتھ محبت اور اس کی خاطر غیرت و حمیت کا واضح اظہار نظر آتا ہے۔ایک تو جماعت ایسے افراد کے متعلق جو غیر اسلامی حرکات وسکنات میں ملوث پائے جاتے ہیں تعزیز کا اعلان کرتی ہے۔اور دوسرا حضور کے بعض واضح اعلانات ہیں جو ناموس رسالت کی خاطر آپ کی کوششوں کا حصہ بننا ضروری ہے۔جیسے مغرب میں سوشل ہیلپ کے لئے بعض احمدی دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔اس کے متعلق حضور نے خطبہ جمعہ 13 جون 2008ء میں فرمایا سوشل ہیلپ کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والوں سے چندہ نہ لیا جائے اُن لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ان مغربی ملکوں میں سوشل ہیلپ (Social Help) لیتے ہیں۔مختلف ملکوں میں اس مدد کے جو بھی نام ہیں، یہ حکومت کی طرف سے ملنے والی مدد ہے جو یا بیروزگاروں کو ملتی ہے یا کم آمدنی والوں کو تا کہ کم از کم اس معیار تک پہنچ جائیں جو حکومت کے نزدیک شریفانہ طور پر زندگی گزارنے کے لئے روزمرہ ضروریات پورا کرنے کا معیار ہے۔مغربی حکومتیں، بعض ان میں سے بڑے کھلے دل کے ساتھ یہ مدد دیتی ہیں اور برطانیہ کی حکومت بھی اس بارے میں قابل تعریف ہے شہریوں کی بڑی مدد کرتے ہیں۔لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ جو چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرتے ہیں یا ایسی ملازمت کرتے ہیں جو پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی یا ٹیکسی وغیرہ کا کام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی حکومت کو غلط معلومات دے کر اس سے مدد بھی لیتے ہیں۔یا مکان بھی خریدا ہوا ہے لیکن حکومت سے مکان کا کرایہ بھی لیتے ہیں۔تو یہ بات تقویٰ سے بعید ہے۔اس طرح کر کے وہ دو ہرے بلکہ کئی قسم کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ایک تو حکومت کو صحیح آمد نہ بتا کرحکومت کا ٹیکس چوری کرتے ہیں۔پھر نہ صرف یہ ٹیکس کی چوری ہے بلکہ دوسروں کے اُس ٹیکس کو بھی کھا رہے ہوتے ہیں جود وسرے لوگ حکومت کے معاملات چلانے اور شہریوں کو سہولتیں مہیا کرنے کے لئے حکومت کو دیتے ہیں۔پھر جھوٹ کے مرتکب