ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 483 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 483

483 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کلام سے لیس ہونے کی ضرورت ہے تا کہ اسلام پر کئے گئے ہر وار کا مقابلہ کیا جائے اور کوئی تیر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور جسم تک نہ پہنچنے دیا جائے۔" خطاب بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی ) ہر احمدی احمدیت کا نمائندہ ہے حضور نے 23 اپریل 2010ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا "ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ وہ احمدی ہونے کے ناطے احمدیت کا نمائندہ ہے۔اور اسلام کی حقیقی تصویر بننے کی اس نے کوشش کرنی ہے۔غیر احمدی مسلمانوں کی نظریں بھی ہم پر ہیں اور غیر مسلموں کی نظریں بھی ہم پر ہیں۔ہم یہ دعوی کر کے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں۔جب ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں تو اسلام کی عزت کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہمارے سپرد ہے۔ہم نے ایک نمونہ بننا ہے۔اور جب ہمارے نمونے ہوں گے تو تبھی ہم تبلیغ کے میدان میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔دین کی عزت اور اسلام کی ہمدردی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس عزت کو دنیا میں قائم کریں۔" خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 195 ) مغرب میں عیسائیوں سے اچھا سلوک کر کے اسلام کے متعلق شدت پسندی اور امن بر باد کرنے کے اثر کو زائل کریں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ یکم جون 2007ء میں احباب جماعت کو عیسائیوں سے حسن سلوک کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا کرنا سلامتی کی بھی ضمانت ہے۔اس ضمن میں حضور نے مغرب میں عیسائیوں سے حسن سلوک کی نہ صرف تلقین فرمائی بلکہ بعض مثالیں بھی دیں۔آپ فرماتے ہیں۔" معاشرے کی سلامتی صلح اور محبت کی فضا پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت ( النساء: 37) میں فرمایا کہ ہمسایوں سے اچھا سلوک کرو اور صرف رشتہ دار ہمسایوں سے اچھا سلوک نہیں کرنا کہ اس میں 100 فیصد بے نفسی اور صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے حسن سلوک نظر نہیں آتا بلکہ غیر رشتہ داروں سے بھی کرنا ہے۔یعنی رشتہ داروں سے حسن سلوک میں تو پسند اور ناپسند کا سوال آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے اس کا تو تب پتہ لگے گا کہ غیروں سے بھی حسن سلوک کرو۔جو غیر رشتہ دار ہمسائے ہیں ان سے بھی حسن سلوک کرو۔۔۔۔۔جب سے میں نے ان مغربی ممالک کے رہنے والوں کو خاص طور پر ہمسایوں سے اچھے تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلائی تھی بعض جگہوں سے بہت خوش کن رپورٹس آئی ہیں۔وہی لوگ جو پاکستان یا ایشین مسلمان ہمسایوں سے خوفزدہ تھے جب ان کے یہ تعلق بڑھنے شروع ہوئے ، عید ، بقر عید پر، ان کے تہواروں پر ، جب تحفے ان