ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 482 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 482

482 جدید ذرائع کا استعمال نوجوان زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔آج کل احمدی نو جوانوں نے دوطرفہ محاذوں پر اپنا کردار ادا کرنا ہے، یعنی بیرونی محاذ جو ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔نفس کی اصلاح جو اندرونی محاذ ہے وہ تو ہے ہی، اس کے علاوہ بیرونی محاذ بھی دو طرح کے ہیں۔ایک طرف تو اسلام کے خلاف مہم میں حصہ لے کر اسلام کا دفاع کرنا ہے اور دوسرے احمدیت کے خلاف جو حملے ہیں ان میں دفاع کرنا ہے۔مختلف ویب سائٹس ہیں ان میں مختلف قسم کے بیہودہ قسم کے اعتراضات آتے ہیں، ان کو سچائی کے پیغام سے بھر دیں۔ایک ایسا منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ ان سب ویب سائٹس کو اپنی سچائی کے پیغام سے بھر دیں۔اگر علم میں کمی ہے تو اپنے بڑوں اور مبلغین سے مدد لیں۔آج دنیا میں رہنے والے ہر خادم کو ان مہمات کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔تبھی تو حید کے قیام میں حقیقی کردار ادا کرسکیں گے۔مسیح موسوی کے نو جوان تو محدود علاقوں میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔" خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 502-50) اے خدام الاحمدیت ! آؤ محمد " کے دین کے محافظ بن جاؤ حضور نے مورخہ 18 ستمبر 2011ء کو جرمنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع بمقام باد کر و ز باغ پر خطاب کرتے ہوئے احمدی نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "اے خدام الاحمدیت ! آج مسیح زمان تمہیں کہہ رہا ہے کہ آؤ اور اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے محافظ بن جاؤ۔آج جب اپنوں کی ، امت کی اکثریت کی بد عملیوں نے اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے۔آج جب غیروں نے ہر طرف سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملوں کی تابڑ تو ڑ بھر مار کی ہوئی ہے تو آج احمدی ہی ہے، احمدی نوجون ہی ہے جس نے مسیح محمدی کی قیادت میں اسلام کی برتری دنیا پر ثابت کرنی ہے۔آج اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے طلحہ جیسے ہاتھوں کی ضرورت ہے۔وہ جو 27، 28 سال کا نوجوان تھا جس نے احد کی جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے سامنے اپناہاتھ رکھ کر تیروں کو روکا اور تیروں سے زخمی ہونے کے باوجود اس لئے اف نہیں کی کہ کہیں اف کرنے سے ہاتھ اپنی جگہ سے ہل نہ جائے۔آج اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے ابودجانہ جیسے بہادروں کی ضرورت ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا حق ادا کر دیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی تلوار عنایت فرمائی۔اور پھر جنہوں نے اپنا جسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے سامنے کھڑا کر لیا یہاں تک کہ تیروں کی بارش سے ان کا جسم چھلنی ہو گیا۔گو آج زمانہ تیروں کے حملوں سے حفاظت کا نہیں ہے۔یہ زمانہ تلوار چلانے کا نہیں ہے۔لیکن آج بھی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لئے اس جوش اور جذبے کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف نے دکھلایا تھا۔اس زمانے میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ، نیکیوں میں آگے بڑھتے ہوئے