ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 481
481 بعض اور جو اسلام پر اعتراض کرنے والے ہیں اور لکھنے والے ہیں، اُن کے اعتراضات کے جواب دیئے ، اُن کو چیلنج دیا لیکن مقابلے پر نہیں آئے۔ہالینڈ ، ڈنمارک وغیرہ میں اعتراضات کے جواب دیئے بلکہ اُن کو اُن کا آئینہ دکھایا کہ وہ کیا ہیں۔پس اسلام مخالف طاقتوں سے تو ہم نبرد آزما ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ہمارے اپنے بھی ہمارے مخالف ہیں اور مخالفت میں تمام حدوں کو پھلانگ رہے ہیں۔مسلمان کہلا کر پھر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر آپ کے عاشق صادق پر ظالمانہ حملے کر رہے ہیں۔آپ کی جماعت پر ظالمانہ اور بہیمانہ حملے کر رہے ہیں اور پاکستان کے نام نہاد علماء اس میں سب سے پیش پیش ہیں، آگے بڑھے ہوئے ہیں۔" خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 500-501) مسیح محمدی کے غلاموں نے اسلام مخالف مہم کا دفاع کرنا ہے حضور نے 24 ستمبر 2010 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" آج مسیح محمدی کے ماننے والے نوجوان بھی ایک عجیب تاریخ رقم کر رہے ہیں۔یہ بھی وہ نو جوان ہیں جو اپنے عہدوں کی پابندی اور توحید کے قیام کے لئے کسی سے پیچھے نہیں۔حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان، مال، وقت اور عزت کی قربانی کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔یقینا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے ہیں۔پس تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اور عبادتوں کے معیار بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پہلے سے بڑھ کر حاصل کرتے چلے جائیں۔آج خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے تو آپ لوگ جو میرے سامنے یہاں بیٹھے ہیں یا اجتماع گاہ میں بیٹھے ہیں اور میرے براہ راست مخاطب ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اجتماعات کرنے کی بھی آزادی ہے اور اپنی مرضی سے جو پروگرام بھی ترتیب دینا چاہیں اس پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے۔جن کو تربیتی پروگرام بنانے کی آزادی بھی ہے اور جن کو تبلیغ کے پروگرام بنانے کی آزادی بھی ہے۔آپ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔صرف اجتماع کے یہ تین دن ہی آپ میں عارضی تبدیلی کا باعث نہ بنیں بلکہ ایک مستقل تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔تقویٰ کے معیار بڑھا ئیں۔عبادتوں کے معیار بڑھا ئیں۔مغرب کی بیہودہ کشش آپ کو اپنی طرف راغب کرنے والی نہ بن جائے۔اپنے ان بھائیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں جو اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتے ہوئے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے ہر کوشش کر رہے ہیں۔اپنی وفاؤں اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قربانی دے رہے ہیں۔پس آپ اس آزادی کے شکرانے کے طور پر جہاں اپنی عبادتوں اور تقویٰ کے معیار کو بلند کریں وہاں احمدیت کا پیغام ہر جگہ پہنچانے کے لئے بھر پور کردار بھی ادا کریں۔ہر ذریعہ تبلیغ کو استعمال کرنے کی کوشش کریں۔