ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 480
480 ممالک کے سیاستدان اور بعض پڑھے لکھے لوگ ملاں کے پیچھے چل کر احمدیوں پر اسلام کے نام پر ظلم کرتے ہیں۔اور یہ ان کا کام ہے۔بہر حال جس طرح ہم اپنا کام کرتے چلے جائیں گے انہوں نے بھی اپنا کام کرتے رہنا ہے اور اس بات سے ہمیں کوئی ایسی فکر نہیں ہونی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا، ہمیں تو ان سے نہ کوئی امید ہے اور نہ ہم ان کی طرف دیکھتے ہیں۔اگر یہ انصاف سے حکومت چلائیں گے اور ظلم کو روکیں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان کر اُس کے اجر کے مستحق ٹھہریں گے۔ہمارا خدا تو ہمارے ساتھ ہے۔وہ تو ہمیں تسلی دلانے والا ہے اور دلاتا ہے اور حفاظت کرتا ہے۔ورنہ جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں ان کے منصوبے تو بڑے خطرناک ہیں۔اللہ تعالیٰ تو ہمیں اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی اپنے وعدے کے مطابق نوازے گا، انشاء اللہ۔لیکن ظلم کرنے والوں کی پکڑ کے سامان بھی ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔انشاء اللہ۔پس ہمیں کسی دنیاوی حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے خدا تعالیٰ کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔اُس کے منہ کی طرف دیکھتے ہوئے ، اُس کے حکموں پر چلنے کی ضرورت ہے۔باقی رہا یہ کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کا یہ اعلان کہ جو ہمارے کہنے کے مطابق نہیں کرتا اور ہمارے پیچھے نہیں چلتا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دھتکارا ہوا ہے اور جہنمی ہے۔اس لئے اپنے لوگوں کو یہ کھلی چھٹی دیتے ہیں کہ جو چاہے ان لوگوں سے کرو۔تم جو چاہے احمدیوں سے کر وہ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اور یہی کچھ عملاً ہو بھی رہا ہے کہ حکومت جو قانون کی بالا دستی کا دعوی کرتی ہے احمدیوں پر ظالموں پر نہ صرف یہ کہ کچھ نہیں کرتی بلکہ الٹا ظالم کا ساتھ دیتی ہے۔" الفضل انٹر نیشنل 5 جولائی 2013ء) اسلام پر حملوں کے جواب میں جماعت احمدیہ کا کردار حضور نے 7 اکتوبر 2011ء کو ہمبرگ جرمنی میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :۔اس وقت جماعت احمد یہ جہاں دوسرے مذاہب کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے سینہ سپر ہے اور دونوں طرف سے ظاہری اور چھپے ہوئے مخالفین کا سامنا کر رہی ہے۔دنیا کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت چہرہ اور آپ کی سیرت کے حسین پہلو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔دشمن کے آپ پر حملوں کے نہ صرف جواب دے رہی ہے۔بلکہ آپ پر اعتراض کرنے والوں کو اُن کا اپنا چہرہ بھی دکھا رہی ہے۔قرآنِ کریم پر اعتراضات کے جواب دے رہی ہے۔بلکہ قرآنِ کریم کی برتری دنیا کی دوسری مذہبی کتابوں پر ثابت کر رہی ہے۔چند سال پہلے جب یہاں جرمنی میں ہی پوپ نے اسلام اور قرآنی تعلیم پر اعتراض کیا تھا تو میں نے جرمنی کی جماعت کو کہا تھا کہ اُس کا جواب کتابی صورت میں شائع کریں اور جرمن جماعت کے بہت سارے لوگوں نے مل کے یہ جواب تیار کیا اور اللہ کے فضل سے بڑا اچھا جواب تیار کیا۔کسی اور مسلمان فرقے کو اس طرح تفصیلی جواب کی بلکہ مختصر جواب کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔پھر امریکہ میں جو پادری اسلام کی تعلیم کے خلاف بڑا شور مچا تا رہتا ہے، اس کے علاوہ