ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 479
479 ہے۔لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ( وَاتَّقُوا الله (المائدة: 9) یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا تقویٰ اختیار کرو۔پس یہ اسلام کی تعلیم ہے۔مخالفین اسلام جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ہم قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم بتا کر اور یہ باتیں کہہ کر ان کا منہ بند کرواتے ہیں کہ حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ کا خوف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک حقیقی مسلمان بے انصافی اور ظلم کی باتیں کرے۔لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ جن لوگوں کے پیچھے قوم چل رہی ہے اُن میں تقویٰ تو ویسے ہی نہیں ہے۔اور جب تقوی ہی نہیں تو پھر اُن سے ظلم اور بے انصافی کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ تو اُن سے کچھ اور توقع نہیں ہو سکتی۔برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب میں حقیقی اسلام کی وضاحت ابھی دو دن پہلے یو کے (UK) جماعت کے سوسال پورے ہونے پر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک فنکشن تھا جس میں بیالیس پارلیمینٹیرین (Parliamentarian) شامل ہوئے، جن میں سے ڈپٹی پرائم منسٹر صاحب بھی آئے ہوئے تھے اور چھ وزراء بھی آئے ہوئے تھے اور میں دوسرے ڈپلومیٹ اور دوسرا پڑھا لکھا ہوا طبقہ تھا۔تو اُن کے سامنے بھی میں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی روشنی میں یہ بتایا کہ حقیقی اسلام کیا ہے۔تو سب کا یہی کہنا تھا کہ تمہارے ایڈریس تو ہمیشہ کی طرح یہی ہوتے ہیں اور جماعت احمد یہ امن اور صلح کی باتیں کرتی ہے لیکن دوسرے مسلمان گروپ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے بہر حال ہمیں پریشانی ہے۔بعض یہ سیاستدان لوگ جو ہیں، کھل کر اظہار کر دیتے ہیں ، بعض سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ڈر ڈر کر بات کرتے ہیں۔لیکن بہر حال جب میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے حوالے سے بات کرتا ہوں تو یہ بہر حال اُن کو پتہ چل جاتا ہے کہ اصل اسلام کی تعلیم کیا ہے؟ بعض اتنے متاثر ہوتے ہیں ،کل پرسوں کی بات ہے، ایک ملک کے سفیر مجھے کہنے لگے کہ تمہارا ہر ہر لفظ جو تھا، جو تم quote کر رہے تھے قرآن اور اُسوہ کے حوالے سے، میرے دل کے اندر جار ہا تھا۔وہ عیسائی ہیں ، اُن سے تھوڑی سی بے تکلفی بھی ہے۔کیونکہ وہ فنکشن میں اکثر آتے ہیں، انہیں میں نے کہا کہ یہ صرف آپ کے دل میں بٹھانے کے لئے نہیں بلکہ اس پیغام کو اپنے حلقے میں بھی پھیلائیں۔تو کہنے لگے یہ تو میں کرتا ہوں اور اب آئندہ بھی کروں گا۔تو غیروں کے دلوں میں تو اثر ہوتا ہے لیکن پتھر دل مولوی ایسے ہیں جو اس پیغام کو سن کر اور ہمارے منہ سے سن کر اُن کے دل مزید پتھر ہوتے چلے جاتے ہیں۔احمدیت ، اسلام کا غلط تاثر دینے والوں کے تاثرات کو زائل کرتی ہے جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو اسلام کا غلط تاثر دینے والوں کے تاثرات کو زائل کر رہے ہیں اور یہ ہمارا کام ہے کہ اسلام کی خوبصورتی کو دنیا میں دکھا ئیں، اس لئے ہم انشاء اللہ تعالیٰ کرتے چلے جائیں گے۔لیکن پھر بھی مسلمان