ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 478 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 478

478 احمدی مظالم کے باوجود اسلامی تعلیم پر کار بندرہ کر اس کا پرچار کر رہے ہیں اسلام امن کا مذہب اور محمد امن کے پیغامبر ہیں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 14 جون 2013ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا " مجھ سے اکثر دنیا والے پوچھتے ہیں اور اس دورہ میں جو میرا امریکہ اور کینیڈا کا ہوا ہے، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس میں بھی ہر جگہ پریس نے یہ پوچھا کہ تم جو اسلام پیش کرتے ہو ٹھیک ہے بہت اچھا ہے لیکن مسلمان اکثریت تو تمہیں مسلمان نہیں سمجھتی اور اُن کے عمل جو سامنے آ رہے ہیں یہ تو اس سے بالکل الٹ ہیں جو تم کہتے ہو۔ساتھ ہی یہ دعوی بھی تم کرتے ہو کہ احمدی دنیا میں صحیح اسلامی انقلاب لائیں گے۔یہ کس طرح ہوگا؟ بہر حال اُن کو تو میں یہی بتاتا ہوں کہ یہ ہوگا“ والی بات نہیں بلکہ ہورہا ہے۔اور لاکھوں سعید فطرت مسلمان اس حقیقی اسلام کو سمجھ کر ہر سال اسلام میں،احمدیت میں شامل ہورہے ہیں، اس حقیقی اسلام میں شامل ہورہے ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم اُس وقت تک یہ کام کرتے چلے جائیں گے جب تک دنیا کو یہ نہ منوالیں کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امن کے وہ پیغامبر ہیں جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔اور آپ کے جھنڈے تلے ہی دنیا کی نجات ہے۔باقی میں اُن کو یہ بھی کہتا ہوں کہ کسی کے مذہب کا فیصلہ کرنا یا کسی مذہب کا ماننے والا یا نہ ماننے والا سمجھنا کسی دوسرے شخص کا کام نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے مذہب کا فیصلہ خود کرتا ہے۔بعض شدت پسند حکومتیں یا ملاں ہمیں مسلمان سمجھیں یا نہ سمجھیں اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں مسلمان ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے وہ سب مسلمان ہیں اور اُن سے بہتر مسلمان ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانا۔اور یہی ہر احمدی جو ہے ، سمجھتا ہے۔اس قسم کی حرکتیں کر کے یہ لوگ احمدیت کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ہاں اگر کوئی حکومت یا وزیر یا اُن کے چیلے احمدیوں پر ظلم کریں گے تو دنیا میں اپنی حکومت کو اور ملک کو بدنام کریں گے۔جو بھی حکومت آتی ہے اس حکومت کے بدنام ہونے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔گو ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے شرمندگی بہر حال ہوتی ہے۔لیکن ملک کی بدنامی سے ہر احمدی کا دل خون ہوتا ہے۔کیونکہ اس ملک کی خاطر ہم نے بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں۔یہاں مذہب کے نام پر خون کر کے یہ لوگ نہ صرف ملک کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اسلام کے نام پر ہو رہا ہے۔اور اسلام جو امن مصلح، بھائی چارے اور محبت کا مذہب ہے اُسے بھی بد نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھی حسنِ سلوک کرو۔جہاں انصاف کا سوال آئے ، انصاف بہر حال مقدم