ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 477
477 خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ حب رسول میں اس طرح تمام رات درود پڑھتا رہا ہے۔آپ کا صرف دعوی ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی بارش جو آپ پر ہوئی اور آپ کی جماعت پر آج تک ہورہی ہے ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اپنے وعدے يُخببُكُمُ الله کو پورا فرمارہا ہے۔پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ ہم احمدی تو ہین رسالت کے مرتکب ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی ہمیں نصیب کی جو سعیدوں کی ارواح کے لئے آفتاب ہے جیسے اجسام کے لئے سورج۔وہ اندھیرے کے وقت ظاہر ہوا اور دُنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔وہ نہ تھ کا نہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اُس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی کچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔" چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 302-303) کیا کوئی عقل رکھنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ فقرے آپ کے مقام کو گھٹا ر ہے ہیں۔پھر آگے چلیں اور دیکھیں کہ غیرت رسول کا اظہار کس زبر دست طریق سے آپ نے کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔" اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ میں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جوان گالیوں اور اس تو ہین سے جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی دکھا۔" آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 51-52) اور یہ نہ صرف زبانی اظہار ہے بلکہ اسلام کے دفاع میں، اسلام کی خوبیاں بیان کرنے میں آپ نے کئی جگہ عملاً بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی غیرت کا اظہار فرمایا۔آپ کی کتب اور لٹریچر اس سے بھرے پڑے ہیں۔آپ کا عمل اس بات کا گواہ ہے۔اسلام پر حملہ کرنے والوں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے والوں کو آپ نے کھلے چیلنج دیئے اور ان کے منہ بند کروا دئیے۔" الفضل انٹر نیشنل 25 مئی 2012ء)