ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 27
27 بجانب سمجھتے ہیں جو سالہا سال سے ناحق شرارت اور افترا کے طور پر اسلام کی تو ہین کر رہے ہیں۔اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی تو ہین کو چپکے سنے جائیں۔کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں نکالی جائیں اور ہم خاموش رہیں ہم نے برسوں تک خاموش رہ کر یہی دیکھا۔ہم دکھ دیئے گئے اور صبر کرتے رہے مگر پھر بھی ہمارے بدگمان دشمن باز نہ آئے۔" آریہ دھرم از روحانی خزائن جلد 10 صفحه 107-108) لیکھرام کی ہرزہ سرائی اور حضرت مسیح موعود کی اپنے آقا محمد مصطفی " سے مثالی محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کے دفاع میں چو کبھی لڑائی لڑ رہے تھے۔ایک طرف آریہ صاحبان تو دوسری طرف پادری صاحبان و دیگر صاحبان مذاہب اسلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی اور ہرزہ سرائی میں مصروف تھے اور اندر سے مسلمان لیڈ ر صاحبان کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا سامنا تھا۔آریہ سماج میں پنڈت دیا نند کے بعد سب سے پیش پیش پنڈت لیکھرام تھا۔جس کی کچلیاں نبیوں کے سردار سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر سے ایسی بھری رہتی تھیں کہ ہزار بارڈسنے کے باوجود وہ کبھی زہر سے خالی نہ ہوتیں۔لیکھرام پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کی ازواج مطہرات اور مقدس اہل بیت پر نہایت کمینے اور رکیک حملے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے سخت بے باکی سے گند اچھالنے اور استہزاء کرنے میں مصروف رہتا۔تھوڑے ہی عرصہ میں لیکھرام نے بانی اسلام کے خلاف اتنا کیچڑ اچھالا۔آپ کی مقدس شان کے خلاف کتابی اور زبانی ہر دو صورتوں میں اتنا ز ہر اگلا اور دیگر تمام انبیاء کے خلاف اس قدر دریدہ دہنی اور بد زبانی کی کہ اس کے تصور سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے خود شوریدہ سر متکبر اور مفتری ہونے میں ذرا بھر شک باقی نہیں رہتا۔اس کی زبان اس قدر دل زار تھی کہ کوئی شریف انسان دہرا بھی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت رسول ضرور تھا کہ لیکھرام کی اس موز میانہ روش سے دردمندان اسلام اور محبان رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پارہ پارہ ہو جائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے دل میں محبوب کبریاء حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت محبت تھی۔بے پناہ عشق تھا۔اپنے پیارے محبوب کے لئے غیرت رکھتے تھے اور آپ کی محبت میں مخمور تھے فرماتے ہیں۔