ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page iv of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page iv

iv پر اس کا جنازہ خود پڑھایا اور اس کے کفن کے لیے اپنا تمیں عطا فرمایا۔اس کی وجہ دراصل قرآن شریف کی وہ تعلیم تھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے رسول کو ایسی دلآزاریوں پر صبر اور تقویٰ جیسا عظیم الشان مجاہدہ اختیار کرنے کی طرف تلقین کی اور فرمایا: لَتُبُلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِه (آل عمران : 187) یعنی تم ضرور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملہ میں آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا، بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے۔اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ ایک بڑا با ہمت کام ہے۔دوسری جگہ فرمایا: قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ ه (الانعام:34) یعنی یقینا ہم جانتے ہیں کہ تجھے ضرور غم میں مبتلا کرتا تھا جو وہ ( کافر ) کہتے ہیں۔پس یقینا وہ تجھے ہی نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیات کا ہی انکار کرتے ہیں۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ رسول جو اللہ تعالیٰ کا سفیر ہو کر آتا ہے اس کی تکذیب و توہین دراصل خالق و مالک کائنات کی تکذیب و توہین ہے۔اس لیے اپنے سفیر کی توہین رسالت کی سزا کا اختیار اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا اور اپنے نبی کو صبر اور تقویٰ کی نصیحت فرمائی۔چنانچہ وہ معاند یہود جوشاہ مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زبانیں موڑتے ہوئے اور دین میں طعنہ زنی کی خاطر داعــنــا کی بجاۓ راعينا ( یعنی ہمارا چرواہا) کہتے ( النساء: 47) اور سلام کی آڑ میں السام علیکم کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف ہلاکت ولعنت کی بددعائیں دیتے تھے ( مسند احمد جزء 2 صفحہ 58) اور پھر کوئی گرفت نہ ہونے پر بڑی دیدہ دلیری سے اس پر بطور نشان عذاب کے طالب ہوتے تھے۔جیسا کہ خدائے عالم الغیب