ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 476
476 کے لئے دوسروں سے بڑھ کر تیار ہیں اور یہ قربانیاں دیتے ہیں۔لیکن ہم نے اس غیرت اسلام کے دکھانے کے وہ اسلوب اپنائے ہیں جو امام الزمان نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہو کر ہمیں سکھائے ہیں۔جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا پر روشن ہوتی ہے۔وہ موعظہ حسنہ اپناتے ہیں جس سے اسلام کے مخالفین کی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے کسی گہرائی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اس زمانہ میں قائم کرنے کی تلقین اور کوشش فرمائی اور کیا طریق بیان فرمائے۔اس کی وظیفوں اور وردوں کے حوالے سے جو آجکل دوسرے مسلمانوں میں رائج ہیں ، مثال دیتا ہوں۔آجکل بھی اور آپ علیہ السلام کے وقت میں بھی مسلمانوں میں بہت سی بدعات نے راہ پالی تھی۔پیروں فقیروں کے ڈیروں پر ذکر اور وردوں کی مجلسیں جمتی ہیں۔معصوم لوگ پیروں کے پاس جاتے ہیں تو وہ انہیں مختلف وظیفے بتا دیتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی مجلسوں کو بدعتیں قرار دیا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کے زمانے سے ثابت نہیں۔آپ نے فرمایا۔جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔فرماتے ہیں " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منعم علیہ کی راہ کا سچا تجربہ کار اور کون ہوسکتا ہے؟ جس پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کرنا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہوتا ہو، میری رائے میں ہلاکت ہے۔" جماعت نعوذ باللہ ہتک رسول کا سوچ بھی نہیں سکتی ( الحلم 31 مارچ 1905 )۔۔۔جہاں تک ہم پر یہ اعتراض ہوتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ اور آپ کو ماننے کی وجہ سے آپ کی جماعت یعنی جماعت احمد یہ ہتک رسول کی مرتکب ہوتی ہے اور نعوذ باللہ ہم آپ کی خاتمیت نبوت اور افضل الرسل ہونے کے منکر ہیں۔اس بارہ میں پہلے بھی کچھ حوالے پیش کر چکا ہوں۔اب ایک دو تحریر میں اور واقعات مزید پیش کر دیتا ہوں جس سے ہمارے غیر سننے والے خود اندازہ کرسکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عشق رسول کا حق ادا کیا اور آپ ہمیشہ سے حق ادا کرنے والے تھے اور آپ کی جماعت بھی حق ادا کرنے والی ہے۔ان سے ہر ایک کو پتا لگ جائے گا کہ یہ عشق رسول کرنے والے ہیں یا تو ہین رسالت کے مرتکب ہونے والے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں کہ : ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وسلم۔( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598) کیا کسی دوسرے کے لئے دل میں میں رکھنے والا شخص کسی کو اچھے الفاظ میں بھی یادرکھ سکتا ہے؟ کجا یہ کہ ساری رات اس کے حسن و احسان کو یاد کر کے اس کی یاد میں تڑپا جائے۔کیا نام نہاد علماء اور اسلام کے ٹھیکیداروں میں سے کوئی