ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 475 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 475

475 ملک ہیں جہاں مسلمان سربراہوں نے جن کو ایک رہنما کتاب، شریعت اور سنت ملی جو اپنی اصلی حالت میں آج تک زندہ جاوید ہے۔باوجود اس قدر رہنمائی کے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی دھجیاں اڑائی ہیں۔" افضل اند نیشنل 18 مارچ 2011ء) آنحضور کی عزت و ناموس کی خاطر احمدی ہر قربانی کے لئے تیار ہے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ 2012 ء پر MTA کے ذریعہ مورخہ 5 فروری 2012ء کو خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے بنگلہ دیش میں احمدیت کی مخالفت اور مخالفین احمدیت کی طرف سے جلسہ سالانہ کو کھلی جگہ پر نہ کرنے کی مخالفت کا ذکر فرما کر علماء کے کردار کو اسلامی تعلیم کے منافی قرار دیا اور احمد یوں کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر قربانیوں کا ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں: علماء کا کردار اور اسلام کی تعلیم اسلام کے نام پر جو یہ حرکتیں کرتے ہیں کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ وہ اسلام ہے جو ہمارے آقاومطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟ ہر گز نہیں۔میرے آقا جو رحمۃ اللعالمین ہیں، اس پیغام کو لے کر آئے تھے جو دلوں میں تقویٰ پیدا کرتے ہوئے انسانیت کی قدریں قائم کرنے والا تھا۔جوغریبوں، بے سہاروں کی پناہ گاہ تھا۔جو قتیموں کا سہارا تھا۔جو بھوکوں کو کھانا کھلانے والا تھا۔جو عورتوں کی عزت قائم کرنے والا تھا۔ان کے حقوق دلوانے والا تھا۔جو مخالفین سے بات کرتے ہوئے موعظہ حسنہ کی تعلیم دینے والا تھا۔حسن کلام سے دلوں کو لبھانے والا تھا۔جو دنیا میں امن صلح اور آشتی کو قائم کرنے کے لئے اپنے حقوق بھی چھوڑنے کے لئے کہتا تھا۔جو راہب خانوں، چر چوں اور یہودی معبدوں کی حفاظت کی اسی طرح تلقین کرتا تھا جس طرح مسلمانوں کی جان ومال کی ضمانت دیتا تھا۔غرض کہ حسین تعلیم کے جتنے بھی پہلو ہو سکتے ہیں وہ اسلام لے کر آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کے ایک ایک حرف کو اپنے قول و فعل سے ثابت کر کے ایک ایسا عظیم الشان اسوہ قائم فرمایا جو ایک حقیقی مسلمان کے لئے ہمیشہ کے لئے پاک نمونہ ہے۔جس پر چلے بغیر ایک مسلمان حقیقی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔۔۔۔۔آنحضور کی عزت و ناموس کی خاطر قربانی۔۔۔۔۔اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عاشق صادق ہی ہے جس نے پھر ہمیں وہ اسلوب سکھائے جن سے خدا تعالیٰ کا تقویٰ اور اس کی خشیت دل میں پیدا ہوتی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔ہمارے مخالفین مسلمان ہمیں کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت میں کسی بھی دوسرے مسلمان سے زیادہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر ہر قربانی