ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 474 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 474

474 رکھی اور اپنے ذاتی اور دنیاوی مفاد کو دین پر مقدم رکھتے ہوئے انہیں کو ترجیح دی اور اس کے علاوہ کوئی ذہن میں خیال نہیں ہے۔پھر یہ کہ دینی معاملے میں بھی جو تھوڑا بہت دین تھا اس میں بھی دنیا غالب آ گئی۔اور خدا کے خوف کے بجائے ، خدا کے خوف سے زیادہ ملاں کے خوف کو دل میں جگہ دیتے ہوئے ملاں کے پیچھے چل پڑے تو پھر کس طرح نیکیوں میں بڑھنا ان کا مطمح نظر ہوسکتا ہے۔" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 646-647) مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں اسلام کی بدنامی حضور ایدہ اللہ نے 25 فروری 2011 ء کے خطبہ جمعہ میں مسلمان حکمرانوں کے غیر اسلامی رویہ کی وجہ سے اسلام کو جو نقصان ہوایا ابھی بھی پہنچ رہا ہے۔اس کا ذکر یوں فرمایا : مسلمان ارباب اختیار اور حکومت جب اقتدار میں آتے ہیں، سیاسی لیڈر جب اقتدار میں آتے ہیں یا کسی بھی طرح اقتدار میں آتے ہیں تو حقوق العباد اور اپنے فرائض بھول جاتے ہیں۔اس کی اصل وجہ تو ظاہر ہے تقویٰ کی کمی ہے۔جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں، جس کتاب قرآنِ کریم پر ایمان لانے اور پڑھنے کا دعوی کرتے ہیں، اُس کے بنیادی حکم کو بھول جاتے ہیں کہ تمہارے میں اور دوسرے میں ما بہ الامتیاز تقویٰ ہے۔اور جب یہ امتیاز باقی نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ پھر دنیا پرستی اور دنیا وی ہوس اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔گو مسلمان کہلاتے ہیں ، اسلام کا نام استعمال ہورہا ہوتا ہے لیکن اسلام کے نام پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پامالی کی جارہی ہوتی ہے۔دولت کو، اقتدار کی ہوس کو، طاقت کے نشہ کو خدا تعالیٰ کے احکامات پر ترجیح دی جارہی ہوتی ہے یا دولت کو سنبھالنے کے لئے ، اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیا جارہا ہوتا ہے۔غیر طاقتوں کے مفادات کی حفاظت اپنے ہم وطنوں اور مسلم امہ کے مفادات کی حفاظت سے زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس کے لئے اگر ضرورت پڑے تو اپنی رعایا پر ظلم سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دولت کی لالچ نے سر براہانِ حکومت کو اس حد تک خود غرض بنادیا ہے کہ اپنے ذاتی خزانے بھرنے اور حقوق العباد کی ادنی سی ادائیگی میں بھی کوئی نسبت نہیں رہنے دی۔اگر سو (100) اپنے لئے ہے تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے ہے۔جو خبریں باہر نکل رہی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ کسی سربراہ نے سینکڑوں کلوگرام سونا با ہر نکال دیا تو کسی نے اپنے تہ خانے خزانے سے بھرے ہوئے ہیں۔کسی نے سوئس بینکوں میں ملک کی دولت کو ذاتی حساب میں رکھا ہوا ہے اور کسی نے غیر ممالک میں بے شمار، لا تعداد جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں اور مملک کے عوام روٹی کے لئے ترستے ہیں۔یہ صرف عرب ملکوں کی بات نہیں ہے۔مثلاً پاکستان ہے وہاں مہنگائی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ بہت سارے عام لوگ ایسے ہوں گے جن کو ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہے۔لیکن سربراہ جو ہیں ، لیڈر جو ہیں وہ اپنے محلوں کی سجاوٹوں اور ذاتی استعمال کے لئے قوم کے پیسے سے لاکھوں پاؤنڈ کی شاپنگ کر لیتے ہیں۔پس چاہے پاکستان ہے یا مشرق وسطی کے ملک ہیں یا افریقہ کے بعض