ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 473
473 والے یہاں آئے ہوئے ہیں انہیں کام وغیرہ کرنے کی بجائے ، خاص وقت سے زیادہ تو کام کرنے کی اجازت نہیں۔اگر یہاں بھی وہی قانون ہے تو ، وہ یہاں بوڑھوں سے بھی رابطے کریں، ان کے لئے تحفے لے کر جائیں، ان کے پاس بیٹھیں، ان سے ہمدردی کریں۔یہ بھی مغرب کا بڑا محروم طبقہ ہے۔ان کے اپنے عزیز رشتے دار، بچے ان کو بوڑھوں کے گھروں میں چھوڑ جاتے ہیں Old people House جسے یہ کہتے ہیں۔بعضوں کو تو سنا ہے بعض ملکوں میں کئی کئی ہفتے کوئی عزیز رشتے دار نہیں پوچھتا۔ان بوڑھوں سے جب آپ تعلقات پیدا کریں گے تو ان کی ہمدردی کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگ ہیں جن کو زبان بھی صحیح طریق سے نہیں آتی ، آپ اپنی زبان بھی بہتر کر رہے ہوں گے۔غیر محسوس طریقے پر آپ ان کے پاس بیٹھ کے زبان بھی سیکھ جائیں گے۔ہو سکتا ہے کہ آپ کے اس جذ بہ ہمدردی اور خدمت خلق سے ان کے بعض عزیز بھی آپ کے قریب آجائیں۔تو یہ رابطے بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔اس طرح اور بھی بہت سارے مختلف راستے ہیں۔کوشش ہو تو آدمی تلاش کر سکتا ہے، جو آپ کو حالات کے مطابق نکالنے ہوں گے۔ہمسایوں سے حسن سلوک ہے، ان کی مدد ہے، ان کے تہواروں پر عیدوں وغیرہ پر ( کچھ لوگ تو یہ کرتے بھی ہیں لیکن سارے نہیں کرتے ) ان کے لئے تحفے وغیرہ لے کر جائیں ان کو بلائیں ، دعوت دیں۔( خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 722-723) مسلمان حکمرانوں کو انتباہ وہ تشدد پسندی سے اسلام کی نہایت بھیانک شکل پیش کر رہے ہیں حضور نے 10 ستمبر 2004 ءکو فرمایا: تمام مسلمان ممالک با وجود اس کے کہ بعض کے پاس وسائل بھی ہیں ، نیکیاں نہیں کر پارہے۔ایک دوسرے کا خیال نہیں رکھ رہے۔غریب کی امیر ملک کوئی خدمت نہیں کرتے۔اُن کی ، اُن کے دل میں کوئی فکر نہیں۔اپنی امارت سے غریب بھائیوں کی ،غریب ملکوں کی مدد کرنے کی بجائے خود اپنے نفس کی ہوس میں مبتلا ہیں۔اور جتنے پیسے والے مسلمان ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں یہ سوائے اپنی دولت اکٹھی کرنے کے یا غریب ملک میں جس کو اختیا مل جائے وہ اپنی ذات کے لئے دولت اکٹھی کرنے کے اور کچھ نہیں کرتا۔نہ حقوق اللہ کی فکر ہے، نہ حقوق العباد کی فکر ہے۔اور اگر ان میں سے کوئی اسلام کی خدمت کا دعویدار ہے بھی، اگر کوئی دعوئی لے کر اٹھتا بھی ہے تو وہ صرف یہ سمجھتا ہے کہ تشدد سے ہی اسلام کا غلبہ ہو گا۔اور صرف تشدد پسندی، توپ، بندوق کے گولے کے علاوہ بات نہیں کرتا۔اور یہ لوگ اسلام کے حسن کو دکھانے کی بجائے اس کی نہایت بھیانک شکل پیش کرنے والے ہیں۔تو یہ لوگ تو نیکیاں قائم کرنے والے نہیں ہیں اور ہو بھی نہیں سکتے۔کیونکہ جب انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی نافرمانی کی اور آپ کے غلام صادق کو اور آپ کے عاشق صادق کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ اس کی مخالفت بھی کی اور اس میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں