ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 472 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 472

472 نمائش میں ملاں کی طرف سے روک لیکن یہ بھی بڑے افسوس سے میں کہتا ہوں کہ یہاں یو کے (UK) میں ایک شہر میں گزشتہ دنوں ہم نمائش لگا رہے تھے تو ملاؤں کے شور کی وجہ سے پولیس نے وہاں ہماری انتظامیہ کو نمائش نہ لگانے کی درخواست کی۔اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ ایسی درخواستوں کو ہمیں دلائل سے رد کر دینا چاہئے لیکن وہاں کی مقامی جماعت یا جماعت کی مقامی انتظامیہ نے اُن کی یہ بات مان لی اور نمائش کینسل کر دی۔اگر یہاں اس ملک میں یا ان ملکوں میں، یورپ میں ، جہاں ہر طرح کی آزادی ہے اور حکومت کی طرف سے آزادی دینے کا اعلان کیا جاتا ہے، اگر ہم نے ملاں کو سر پر چڑھا لیا تو ہم اس ملک میں بھی شدت پسندی کو فروغ دینے والے بن جائیں گے۔یہ بات ہمیں انتظامیہ کو بھی اچھی طرح باور کروانی چاہئے اور اس نمائش کا دوبارہ اہتمام کرنا چاہئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خاموشی سے لگالی جائے۔اگر خاموشی سے لگانی ہے تو اس کا فائدہ کیا ہوگا ؟ ایک طرف دعویٰ ہے کہ ہم نے جری اللہ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے اور دوسری طرف پھر ہم مداہنت بھی دکھائیں؟ یہ نہیں ہوسکتا۔اس ملک میں جیسا کہ میں نے کہا قانون کی حکمرانی ہے، حکومت دعوی کرتی ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے تو قانون سے کہیں کہ تمہارا کام اس کو نافذ کرنا اور ہر شہری کے حق کی ادائیگی کرنا اور اُسے تحفظ دینا ہے اور یہ تم کرو۔بہر حال یہ حال ہے ملاں کا کہ غیر مسلم ممالک میں، جیسے ہندوستان یا یہاں انگلستان میں جب قرآن اور اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے تو غیر مسلم نہیں بلکہ یہ نام نہاد مسلمان علماء کھڑے ہوتے ہیں کہ ہیں ! یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ایسا خطر ناک کام، قرآنِ کریم کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کا کام یہ احمدی کر رہے ہیں، یہ ہم کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے۔یہ ہے ان اسلام کے ٹھیکیداروں کی اصل تصویر اور رخ۔لیکن ہم نے اپنا کام کئے جانا ہے۔ہم نے ہر صورت میں اسلام کے مخالفین کے منہ بند کرنے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کود نیا میں پھیلانا ہے۔انشاء اللہ تعالی۔اور ظاہر ہے ہم یہ کرتے چلے جائیں گے تاکہ دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لانے کی کوشش کریں۔" الفضل انٹر نیشنل 30 دسمبر 2011ء) (خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 604-607) ملاں نے اسلام کی بھیانک تصویر پیش کی ہے حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اکتوبر 2004ء میں فرمایا: " آج کل ملاں نے اور جنونیوں نے جو اسلام کے نام پر اسلام کی بھیانک تصویر دنیا میں قائم کر دی ہے، یا اپنی حرکتوں سے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا اسلام اور اس کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔تو جب آپ ذاتی رابطوں سے آہستہ آہستہ اس بھیانک تصویر کو ان لوگوں کے ذہنوں سے زائل کریں گے تو یہ آپ کے قریب ہوتے چلے جائیں گے۔آپ کو دوسروں سے مختلف سمجھیں گے۔اور یہ رابطے کرنے کے لئے جو بہت سے اسامکم لینے