ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 471 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 471

471 الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنے کے لئے آیا ہے نہ کہ خود مقابلہ کرنے کے لئے۔اور آپ علیہ السلام نے اپنے دلائل و براہین سے دنیا کے منہ بند کئے ہیں۔اسلام پر حملے کرنے والوں کے آگے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح آپ کھڑے ہو گئے۔آپ نے دلائل و براہین سے نہ صرف اسلام پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے والوں کو روکا بلکہ انہیں پھر پسپا کیا۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان دلائل و براہین کے ساتھ دشمن پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ اُس کو بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔قرآن کی نمائش کے ذریعہ اسلام کی اصل تصویر اور مسلمانوں کی مخالفت پس اسلام کی خوبصورت تعلیم آج دنیا میں ہمیں آپ علیہ السلام کے ذریعے سے پھیلتی نظر آ رہی ہے۔آج آپ کی جماعت ہی ہے جو با قاعدہ نظم وضبط کے ساتھ ایک نظام کے ماتحت خلافت کے سائے تلے تبلیغ اسلام کا کام سرانجام دے رہی ہے۔افریقہ میں تبلیغ اسلام ہو یا یورپ میں یا کسی بھی دوسرے براعظم میں، کسی بھی ملک میں، اسلام کی حقیقی تصویر جماعت احمد یہ ہی پیش کر رہی ہے۔میں نے جب جماعتوں کو کہا کہ دشمنانِ اسلام قرآن کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں تو قرآن کی نمائش لگائی جائے ، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو واضح کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف جگہوں پر نمائشیں لگیں اور لگ بھی رہی ہیں اور اس کے بعد دنیا سے، ہر جگہ سے یہی رپورٹس آ رہی ہیں کہ جو غیر لوگ آنے والے ہیں وہ دیکھ کے کہتے ہیں کہ جو قرآنی تعلیم اور جو اسلام تم پیش کر رہے ہو یہ تو اتنا خوبصورت اسلام ہے کہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس کی مخالفت کس طرح کر رہے تھے۔ہمارے سامنے تو اسلام کا یہ خوبصورت پہلو بھی آیا ہی نہیں۔یہ ہماری لا علمی تھی۔اکثروں کا بڑا معذرت خواہانہ لہجہ ہوتا ہے۔قرآن کریم اور دوسرا اسلامی لٹریچر لے کر جاتے ہیں۔ان نمائشوں میں آنے والے پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے تعلیم یافتہ مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، دوسرے مذاہب والے بھی ہیں اور سب بلا استثناء اس کام کو سراہ رہے ہیں کہ یہ عظیم کام ہے جو تم لوگ کر رہے ہو۔لیکن بد قسمتی سے ایک ملاں ہے اور ان کا بھی ایک طبقہ ہے جو بعض ملکوں میں اس نمائش کی مخالفت کرتا ہے۔اسلام کی تعلیم پھیلانے کی مخالفت کرتا ہے۔میں نے شاید پہلے بھی یہاں بتایا تھا کہ ہندوستان میں، دہلی میں ایک بہت بڑے ہال میں جو حکومت سے کرائے پر لیا گیا تھا ، ہم نے قرآن کریم کی نمائش لگائی تو اُس پر وہاں کے مُلاں نے اپنے ساتھ چند شر پسندوں کو ملا کر اتنا شور مچایا کہ وہ نمائش جو تین دنوں کے لئے لگتی تھی دو دن میں سمیٹنی پڑی۔لیکن ان دو دنوں میں بھی اس نے اپنا بھر پور اثر قائم کیا۔وہاں کے ایک بڑے پڑھے لکھے صاحب ہیں جن کا ایک مقام بھی ہے وہ نمائش کے بعد وہ قادیان آئے اور پھر بتایا کہ میں پہلی مرتبہ قادیان آیا ہوں اور اس طرف سفر کر کے آیا ہوں اور چاہتا تھا کہ قرآن کریم اور اسلام کی اتنی عظیم خدمت کرنے والے جہاں رہتے ہیں وہ جگہ بھی دیکھوں اور پھر قادیان کی مختلف جگہیں دیکھیں اور متاثر ہوئے۔