ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 470 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 470

470 پاکستان میں ملاں کے ذریعہ ناموس رسالت پر حملہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 9 دسمبر 2011ء میں مولویوں کی غیر اسلامی حرکات وافعال کی وجہ سے اسلام کی جو بے عزتی ہو رہی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ نام نہاد مولوی اور اُن کے چیلے اپنی گراوٹوں کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔اس حد تک گر چکے ہیں کہ احمد یوں پر ظلم ڈھانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور اُس کے رسول کی بہتک سے بھی باز نہیں آتے اور پھر کہتے ہیں کہ یہ تو قادیانیوں نے کیا ہے۔خود قرآنِ کریم کے پاکیزہ اور بابرکت اوراق کو صفحوں کو، زمین پر یا نالی میں پھینک دیں گے، کوڑے کے تھیلوں میں ڈال دیں گے اور پھر کسی احمدی کا نام لگا دیں گے اور احمدی کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔اُسے تو اُس وقت پتہ چلتا ہے جب پولیس اُس کے گھر اُس کو پکڑنے کے لئے آجاتی ہے یا اُس کے خلاف ان گندہ ذہنوں کے جلوس سڑکوں پر نکل رہے ہوتے ہیں۔یا پھر ان کا یہ بھی طریق ہے کہ سکولوں میں دیواروں پر ، غلط جگہ پر ، غلط طریقے سے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عزت و ناموس پر ہر احمدی اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے بلکہ اپنی اولاد کو بھی قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے، آپ کا نام لکھ کر پھر سکول کے احمدی بچوں کا نام لگا دیا جاتا ہے اور اس وجہ سے بچوں کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے، اُن پر ظلم کئے جاتے ہیں، اُن کو مارا پیٹا جاتا ہے۔بلکہ ان معصوم بچوں پر ہتک رسول کے مقدمات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے اور سزا بھی انتہا کی ہے۔ایسی حرکت ہمارے احمدی معصوم بچوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس کے متعلق وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔پس جب اخلاقی گراوٹ اس حد تک چلی جائے ، جب خدا تعالیٰ کا خوف دلوں سے بالکل ہی غائب ہو جائے ، جب گھٹیا اور ذلیل حرکتوں کی انتہا ہونے لگے تو پھر مظلوموں کی آہیں اور فریادیں اور پکاریں بھی اپنا کام دکھاتی ہیں۔پس آجکل خاص طور پر پاکستان میں جو حالات ہیں، جن سے احمدی وہاں گزررہے ہیں اس حالت میں جیسا کہ میں اکثر پہلے بھی کئی مرتبہ توجہ دلا چکا ہوں ہمیں اپنی دعاؤں کا محور صرف اور صرف احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ترقی کو بنانا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی جلد پکڑ کرے جو خدا اور اسلام کے نام پر ظلموں کی انتہا کئے ہوئے ہیں۔خدا، اسلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں ان دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے کہ ان میں سے جو نیک فطرت ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ زمانے کے امام کو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے والے بنیں۔۔۔۔۔۔ملاں نے کم علم مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ نعوذ باللہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں جبکہ یہ بالکل غلط ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عاشق صادق تمام نبیوں کے خلل میں، تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حضرت خاتم