ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 469
469 مسلمان مسلمان کی گردن کاٹ کر توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2012ء میں اسلامی سال نو کے موقع پر محرم کے آغاز پر مورخہ 23 نومبر 2012ء کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں محرم میں درود شریف پڑھنے کی احباب کو تلقین فرمائی اور مسلمانوں کے آپس کے اختلافات کا ذکر فرما کر احمدیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ فرماتے ہیں۔ہر احمدی، ہر مسلمان اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنے والا ہے، آپ کے نور سے فیضیاب ہونے والا ہے، آپ کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والا ہے تو آل محمد میں اُس کا شمار ہو جائے گا۔پس یہ وہ حقیقی طریق ہے جس پر ہر مسلمان کے لئے چلنا ضروری ہے کہ ہر بزرگ کے مقام کو پہچان کر اُس کی عزت کریں ، اُس کا احترام کریں۔آپس کے جھگڑوں اور فسادوں اور قتل و غارت گری کو ختم کریں۔بعید نہیں کہ یہ سب قتل و غارت گری اور فساد جو ہورہے ہیں، مسلمان مسلمان کو جو تل کر رہا ہے اس میں اسلام مخالف طاقتوں کا ہاتھ ہو جو مسلمانوں میں گروہ بندیاں کر کے، پیسہ دے کر، رقم خرچ کر کے فساد کروا رہے ہیں یا خود بیچ میں شامل ہو کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔اب جو شیعوں پر حملے ہو رہے ہیں یا مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں، ان میں اُن تنظیموں کا ہاتھ ہے جنہیں حکومت دہشتگر دکہتی ہے اور دہشتگردوں کے بارے میں یہ بھی حکومتوں کی رپورٹیں ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بعض مسلمان ہی نہیں تھے بلکہ فساد پیدا کرنے کے لئے باہر سے آئے تھے۔اللہ تعالیٰ اُمت پر رحم کرے اور ان کو ایک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔احمدیوں کو بھی میں کہنا چاہوں گا کہ دوسرے مسلمان فرقے تو ایک دوسرے سے بدلے لیتے ہیں کہ اگر ایک نے حملہ کیا تو دوسرے نے بھی کر دیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر با وجود تمام تر ظلموں کے جو یہ تمام فرقے اکٹھے ہو کر ہم پر کر رہے ہیں، ہمارے ذہنوں میں کبھی بھی بدلے کا خیال نہیں آنا چاہئے۔ہاں کسی بات کی اگر ضرورت ہے تو یہ کہ ہم میں سے ہر ایک ہر ظلم کے بعد نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرے اور پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے دعاؤں میں لگ جائے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قربانی کا جو عملی نمونہ ہمارے سامنے قائم فرمایا ہے وہ ہمارے لئے رہنما ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ایک شعر میں جماعت کو اس طرح نصیحت فرمائی ہے کہ ؎ وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی ستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو کلام محمود مجموعے منظوم کلام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نظم 94 صفحہ 218) پس حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہیں ، ہمیں صبر و استقامت کا سبق دے کر ہمیں جنت کے راستے دکھا دیئے " الفضل انٹر نیشنل 14 دسمبر 2012ء)