ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 468
468 ( یعنی پھر کفر لازم نہیں آتا مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھو کہ لگ جانے کا احتمال ہے۔لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شائہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں، جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے، اُن کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔( جب اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی اور رسول کہا ہے تو میں کس طرح مخفی رکھوں۔لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرسَل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤوس الا شہاد گواہی دیتا ہوں ، یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، نہ کوئی پرانا اورنہ کوئی نیا۔وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَيّدِنَا أَنِيْ نَبِيٌّ أَوْ رَسُوْلٌ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيْقَةِ وَالْإِفْتَرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَأَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ الْغَرَّآءِ فَهُوَ كَافِرٌ كَذَّابٌ۔غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بنا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔" انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27-28 حاشیہ ) ( الفضل انٹر نیشنل 7 جون 2013ء) دہشت گرد اپنی کارروائیوں سے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں حضور انور نے خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء میں فرمایا:۔اب یہاں کل ہی لندن میں جو مختلف ٹرینوں میں اور بسوں میں واقعہ ہوا ہے ، جو ظلم اور بربریت کی ایک مثال قائم کی گئی ہے، کیا یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا شخص ایسی حرکت کر سکتا ہے۔بہر حال یہ جس تنظیم یا جس گروہ نے بھی کیا اگر یہ مسلمان کہلانے والا گروہ ہے تو اس نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر، ان بیہودہ اور ظالمانہ فعلوں سے اپنے آپ کو بچالیا ہے۔اور جب بھی کہیں ظلم کا کھیل کھیلا گیا ہے، جماعت احمدیہ نے ہمیشہ اس سے بیزاری، نفرت اور کراہت کا اظہار کیا ہے۔کیونکہ اسلام تو انسانیت کی اقدار قائم کرنے کے لئے آیا تھا، نہ کہ معصوموں کی جانیں لینے کے لئے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور دنیا کو اس ظلم سے بچائے۔بہر حال ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اندر تبدیلیوں کے ساتھ اسلام کی خوبصورت تعلیم سے دنیا کو بھی آگاہ کرے، دنیا کو بھی بتائے۔اللہ تعالیٰ ہر جگہ، ہر ملک میں، جس کی طرف سے بھی ایسے ظالمانہ فعل ہورہے ہوں ان کی خود پکڑ فرمائے اور ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلائے رکھے" ( خطبات مسر ورجلد 3 صفحہ 402-403 )