ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 467
467 ناموس رسالت کے لئے زندگی کا ہرلمحہ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں پس خدا تعالیٰ کا خوف کریں اور تو بہ اور استغفار کریں۔یادرکھیں کہ اگر ناموس رسالت کیلئے کھڑا ہونا ہے اور حقیقی مسلمان ہیں تو ایک سال نہیں بلکہ اپنی زندگی کا ہر لحہ ناموسِ رسالت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔اور اس کا بہترین طریقہ اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنا اور آپ سے محبت ہے۔وہ حقیقی محبت ہے صرف نام کی محبت نہیں۔اس کا صحیح طریق سکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔پس اگر حقیقی محبت کا اظہار کرنا ہے تو اُس کے ساتھ جڑنا ضروری ہے۔آپ علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کس طرح سمجھا اور مقام ختم نبوت کیا ہے؟ دنیا کے تمام ادیان پر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری کس طرح ثابت کرنی ہے؟ یہ سب کچھ اُس سے پتہ چل سکتا ہے جس کو زمانے کا امام بنا کر خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا۔جس کا اوڑھنا بچھونا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔پس یہ بات بتانے کے لئے کہ کس طرح عشق و محبت کے یہ اظہار امام الزمان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کئے ہیں نے آج چند حوالے لئے جو جہاں احمدیوں کے لئے از دیادِ ایمان اور مقام خاتم الانبیاء کا علم و عرفان دلانے والے ہیں، وہاں اگر کوئی غیر احمدی نیک فطرت اس کو سُن لے تو اُسے بھی مقام محمدیت کی حقیقی تصویر دکھانے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور زمانے کے امام مسیح الزمان اور مہدی دوران کے بارے میں نام نہاد علماء کی طرف سے پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود سب سے بڑھ کر ناموس رسالت کے پاسدار ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی حیثیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرماتے ہیں؟ سب سے بڑا الزام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا کرتے ہیں اور ہم نام نہا دنا موسِ رسالت کے دیوانے یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔" کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآنِ شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيِّيْنِ (الاحزاب: 41) کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے، وہ کہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اُس کو بول چال میں لا نامستلزم کفر نہیں“