ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 26
26 " یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہم برسوں تک آریوں کے مقابل پر بالکل خاموش رہے قریبا چوداں برس کا عرصہ ہو گیا کہ جب ہم نے پنڈت دیانند اور اندر من اور کنہیا لال کی سخت بد زبانی کو دیکھ کر اور ان کی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے دید کا براہین احمدیہ میں کیا تھا مگر ہم نے اس کتاب میں بجز واقعی امر کے جو ویدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتا تھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیانند نے اپنی ستیارتھ پر کاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیا لال نے اپنی تالیفات میں جس قدر بد زبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوں گی۔خاص کر دیا نند نے ستیارتھ پر کاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہو سکتا ہے جس کو نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو نہ عقل ہو نہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہو غرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعد ازاں ہم باوجود یکہ لیکھرام وغیرہ نے اپنی ناپاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی۔بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق جن کی تالیف پر نو برس گزر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے۔چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلی دھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیار پور کمال اصرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمہ چشم آریہ در حقیقت اس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلی دھر کے مارچ1886ء میں ہوا۔پھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چوداں برس سے آج تک یا اگر ہوشیار پور کے مباحثہ سے حساب کرو تو نو برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخبار میں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کاروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلو حد سے زیادہ بڑھ گیا اور اُن کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا۔ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہر ایک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور سمجھ کر ہر یک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں ان کو کیا کہیں اور ان کی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مر گئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہو گئے۔اے سیہہ دل لو گو ! تمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھایا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براہین میں دیدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اس وقت ذکر کیا کہ جب دیانند ہمارے نبی کو اپنی ستیارتھ پر کاش میں صدہا گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت تو ہین کر چکا اور ہندو بچے ہر یک گلی کوچہ میں اسلام کے منہ پر تھوکنے لگے۔پس کیا اس وقت واجب نہ تھا کہ ہم بھی کچھ ویدوں کی حقیقت کھولیں اور آیہ کریمہ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْنُ هُمْ يَخْتَصِرُونَ (الشوری: 40) پر عمل کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کریں اور پھر اس وقت سے آج تک ہم خاموش رہے لیکن آریوں کی طرف سے اس قدر گندی کتابیں اور گندی اخبار میں تو ہین اسلام کے بارے میں اس وقت تک شائع ہوئیں کہ اگر ان کو جمع کریں تو ایک انبار لگتا ہے۔یہ کیسا خبث باطن ہے کہ مسلمان کہلا کر پھر ظلم کے طور پر ان لوگوں کو ہی حق