ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 466
466 ناموس رسالت کے نام پر اسلام کی تعلیم کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش گزشتہ دنوں ایک خبر یہ آئی کہ علماء اور مجلس ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ سال 2013ء پاکستان میں ناموسِ رسالت کے سال کے طور پر منایا جائے۔یہ عجیب عشق رسول ہے کہ ایک سال آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام کر دیا اور بس۔اور اس سال میں بھی کیا ہو گا؟ اس سال میں بھی وہی کچھ ہو گا جو یہ نام نہا دعلماء ناموس رسالت اور مذہب کے نام پر اب تک کرتے آئے ہیں۔یعنی اپنے مفادات کے لئے ، اپنی انانیت کی تسکین کے لئے مجبوروں اور مظلوموں کا مذہب اور ناموس رسالت کے نام پر خون۔بلکہ کہنا چاہئے کہ ناموسِ رسالت کے نام پر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش۔وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جسے اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس کے نام پر وہ ظلم و بربریت۔لیکن ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رتی جب ڈھیلی ہوتی ہے تو پکڑ بھی بڑی سخت آتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے پیارے دین اور پیارے رسول کے نام پر ظلم و بربریت کیا جائے تو اللہ تعالیٰ مستقل چھٹی نہیں دیتا۔ایک وقت آتا ہے جب یہ ظلم و تعدی کرنے والے خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں۔پس یہ نام نہا دنا موسِ رسالت اور ختم نبوت کے نام پر قائم کی گئی تنظیمیں خدا تعالیٰ کی ڈھیل کو اپنی کامیابی نہ سمجھیں ، نہ ہی اُسے خدا تعالیٰ کی رضا سمجھیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا تو رحمۃ للعالمین کے اسوہ پر عمل کرنے پر ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا تو اُس کے دین کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلانے میں ہے، نہ کہ مذہب کے نام پر خون میں۔ملاں توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں پس آج جو لوگ ناموسِ رسالت کے نام پر غیر مسلموں کے حقوق غصب کر رہے ہیں یا اپنے مفادات کی تسکین کے لئے توہین رسالت کا الزام لگا کر کسی کو بھی مجرم بنا کر قتل و غارت گری پر تلے ہوئے ہیں وہ حبیب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اُسوہ کے خلاف چل کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو دعوت دے رہے ہیں۔اور پھر اپنے ظلم کی انتہا کو یہاں تک لے گئے ہیں کہ جو امام اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق بھیجا ہے، اُس کا نہ صرف انکار کر رہے ہیں بلکہ اُس کے لئے دریدہ دہنی اور ظلموں کی حدوں کو بھی چھونے لگے ہیں۔اُس کے ماننے والوں پر ظلموں کی انتہاؤں کو چھورہے ہیں۔پس یا درکھیں ، اپنے عمل سے یہ ظلم و بر بریت کرنے والے ناموسِ رسالت نہیں کر رہے۔اُن کا عمل کسی طور بھی ناموس رسالت کرنے والوں میں شمار نہیں ہوسکتا بلکہ توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور غلام صادق کے خلاف مغلظات بک کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو آواز دے رہے ہیں۔قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس میں دیئے گئے اللہ تعالیٰ کے اس انذار کو بھول جاتے ہیں کہ وأنلى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِيْن (الاعراف: 184)۔اور میں اُنہیں مہلت دیتا ہوں۔یقیناً میری پکڑ بہت سخت ہے"