ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 465
465 " گوضرورت پیش آوے"۔یہ بڑا با معنی فقرہ ہے۔اب دیکھیں اس زمانہ کے حکم اور عدل نے یہ کہ کر فیصلہ کر دیا کہ تمہاری جو ضرورت ہے جس کے بہانے بنا کر تم شادی کرنا چاہتے ہو، وہ اصل اہمیت نہیں رکھتی بلکہ معاشرے کا امن اور سکون اور انصاف اصل چیز ہے۔آج کل کہیں نہ کہیں سے یہ شکایات آتی رہتی ہیں کہ بچے ہیں، اولاد ہے لیکن خاوند مختلف بہانے بنا کر شادی کرنا چاہتا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ فرمایا اگر انصاف نہیں کر سکتے تو شادی نہ کرو اور انصاف میں ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی ہے۔اگر آمد ہی اتنی نہیں کہ گھر چلا سکو تو پھر ایک اور شادی کا بوجھ اٹھا کر پہلی بیوی بچوں کے حقوق چھیننے والی بات ہوگی۔" حضرت عائشہ پر الزام حضور انور نے 13 مارچ 2009ء کو فر مایا:۔خطبات مسرور جلد 7 صفحه 223-225) "آپ نے عبادتوں کے کیا معیار قائم فرمائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے، حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ بتا دوں کہ میں نے ایک کتاب کا جو ذ کر کیا، اس میں بھی حضرت عائشہ کی ذات کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر گندا اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔بہر حال حضرت عائشہ کی روایت ہے، کہتی ہیں کہ عورت ذات ہونے کی وجہ سے ٹھیک ہے کہ آپ کو ایک محبت اور پیار تھا لیکن آپ کا اصل محبوب کون تھا، حقیقی محبوب کون تھا۔یہ بتاتے ہوئے حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میرے ہاں حضور کی باری تھی صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ باری نویں دن آیا کرتی تھی۔بہر حال کہتی ہیں کہ میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ آپ بستر پر نہیں ہیں۔میں گھبرا کر باہر صحن میں نکلی تو دیکھا کہ حضور تسجدے میں پڑے ہوئے ہیں اور کہہ رہے تھے کہ اے میرے پروردگار! میری روح اور میرا دل تیرے حضور سجدہ ریز ہیں۔تو یہ ہے حقیقی محبوب کے سامنے اظہار اور یہ ہے جواب ان لوگوں کے لئے جو آپ کی ذات پر بیہودہ الزام لگاتے ہیں۔" خطبات مسرور جلد 7 صفحه 135-136 ) مسلمان ناموس رسالت کے نام پر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو داغدار کر رہے ہیں حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ قادیان 2012ء کے اختتام پر MTA کے ذریعہ ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے فرمایا: