ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 464
464 انہیں میرے آقا کا یہ اسوہ حسنہ نظر نہیں آتا کہ کس طرح انہوں نے اپنے عائلی حقوق ادا کئے کہ زندہ بیویوں کے ساتھ بھی برابری کا سلوک ہے۔باوجود اس کے کہ دل پر کسی کا اختیار نہیں، پھر بھی جو ظاہری سلوک ہے وہ ایک جیسا رکھا اور جس بیوی نے ابتدا میں ہی سب کچھ قربان کر دیا اس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے زندہ بیویوں کو بھی بتا دیا کہ میں تو قدر شناس ہوں، اگر میں یہ قدرشناسی نہ کروں تو اس خدا کا شکر گزار نہیں کہلا سکوں گا جس نے مجھے کبھی تہی دامن نہیں چھوڑا اور اپنی وسیع تر نعمتوں سے مجھے حصہ دیتا چلا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں سے حسن سلوک اس وجہ سے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرو اور جب آپ نے اپنے ماننے والوں کو فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ، اس پر عمل کرو تو خود اس کے اعلی ترین نمونے قائم فرمائے۔قرآن کریم میں اگر اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ شادی کا حکم دیا ہے تو بعض شرائط بھی عائد فرمائی ہیں۔یہ بھی اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دے کر عورت پر ظلم کیا گیا ہے۔یا صرف مرد کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے۔اس بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے، یہ کھلا حکم نہیں ہے۔فرمایا وَإِن خِفْتُمُ إِلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتْمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَتُلكَ وَ رُبعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ طَ ذَلِكَ أَدْنَى الَّا تَعُولُوا (النساء : 4 ) اور اگر تم ڈرو کہ تم بیتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین، چار چار لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک کافی ہے یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ طریق قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔اس آیت میں ایک تو یتیم لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے کہ تیموں سے بھی شادی کرو تو ظلم کی وجہ سے نہ ہو بلکہ ان کے پورے حقوق ادا کر کے شادی کرو اور پھر شادی کے بعد ان کے جذبات کا خیال رکھو اور یہ خیال نہ کرو، یہ کبھی ذہن میں نہ آئے کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تو جس طرح چاہے ان سے سلوک کر لیا جائے۔اور اگر اپنی طبیعت کے بارہ میں یہ خوف ہے، یہ شک ہے کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو آزاد عورتوں سے نکاح کرو۔دو، تین یا چار کی اجازت ہے لیکن انصاف کے تقاضوں کے ساتھ۔اگر یہ انصاف نہیں کر سکتے تو ایک سے زیادہ نہ کرو۔حضرت مسیح موعود اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ : دو یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کروان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں۔لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لا وارث ہیں، شاید تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اورا قارب والی عورتیں کرو جو تمہاری موڈب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ایک، دو، تین ، چار تک کر سکتے ہو بشرطیکہ اعتدال کرو۔اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو۔گو ضرورت پیش آوے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 337)