ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 461
461 طرف بہت توجہ دلائی گئی ہے اور قرآن کریم میں جس طرح تفصیل سے آجکل کے دنیوی علوم کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے وہ کسی اور کتاب میں نہیں۔پس یہ راستے تو انشاء اللہ تعالی کھلیں گے ہی اور مجھے امید ہے کہ آپ لوگ اب ان راستوں کے کھلنے کے بعد اگر اپنا حق ادا کرنے والے بنیں، تبلیغ کا حق ادا کرنے والے ہوں تو انشاء اللہ تعالیٰ پڑھے لکھے لوگوں کو اسلام کے بھی اور جماعت کے بھی بہت قریب لے آئیں گے اور پھر یہی لوگ ہی اسلام اور جماعت کی نمائندگی کرنے والے ہوں گے۔میں شکر گزار ہوں یہاں کی کونسل کا بھی، میئر کا بھی کہ وہ خود تشریف لائیں اور انہوں نے ہمیں یہاں مسجد بنانے کی بھی اجازت دی۔جیسا کہ انہوں نے خود بھی کہا ہے کہ بعض مسلمان فرقے ایسے ہیں جو اسلام کی شدت پسند تعلیم کا اظہار کرتے ہیں۔یعنی کہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم شدت پسندی کی تعلیم ہے حالانکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم وہ تعلیم ہے جیسا کہ ان میئر صاحبہ نے خود بھی بتایا ہے جو شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے بلکہ پیار محبت اور بھائی چارے کی تعلیم ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جب یہ مسجد بنے گی اور جب لوگ یہاں آنے شروع ہوں گے جیسا کہ میں نے کہا تو اسلام کی مزید خوبصورت تعلیم نکھر کر لوگوں کے سامنے آئے گی۔پس ہمیں اس جذبے سے یہاں کام کرنا چاہئے اور مسجد بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ایک اہم بات ہمیشہ یا درکھنی چاہئے کہ یہ مسجد جہاں بھی تعمیر ہوتی ہے وہ اس اللہ تعالیٰ کے گھر کی تنتبع میں ، اس کے نمونے پر قائم کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کا پہلا گھر ہے جس کی بنیادیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے نئے سرے سے اٹھائیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے امن اور سلامتی کا گھر قرار دیا۔پس ہماری یہ مسجد بھی انشاء اللہ تعالیٰ امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے والی ہوگی اور جب اس کی تعمیر ہوگی تو انشاء اللہ لوگ دیکھیں گے کہ جو ہم کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھاتے ہیں۔" الفضل انٹر نیشنل 3 اگست 2012 ء) برلن میں بیت الذکر ( خدیجہ ) کے موقع پر حضور نے صحافی حضرات ہمبران پارلیمنٹ سے ملاقات کی ان کے سوالات کے جوابات دیئے اور بڑا واضح طور پر احمدیت کی تعلیم Love for all, hatred for none کا افضل انٹر نیشنل 30 ستمبر 2011ء) اعلان فرمایا۔ناروے کی بیت نصر کے موقع پر فرمایا کہ :۔"ہماری بیوت لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے ، انہیں باہم متحد کرنے اور آپس میں بھائی چارہ اور اخوت و محبت کی فضاء پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اسلام ہر گز کسی قسم کی بدامنی پھیلانے کی کوئی تعلیم نہیں دیتا۔دہشت گردانتہا پسند بے شک اپنے آپ کو مسلمان کہیں گے لیکن اسلام نے کبھی بھی اس قسم کے ظلم و بربریت کی اجازت نہیں دی۔" (الفضل انٹر نیشنل 9دسمبر 2011ء) 2006 ء میں آسٹریلیا نے نیشنل میوزیم میں استقبالیہ تقریب میں آپ کا خطاب بھی ایک تاریخی حیثیت