ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 460
460 پر ظاہر کریں تا کہ اسلام کے خلاف جو شکوک و شبہات ہیں لوگوں کے وہ دور ہوں۔اور یہ سمجھ سکیں کہ حقیقت میں اسلام ایک خوبصورت مذہب ہے۔جس میں نہ شدت پسندی ہے، نہ دوسروں کے حقوق غصب کرنا ہے، نہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا ہے ، بلکہ یہاں تک ہمیں حکم ہے کہ دشمن سے بھی تم نا انصافی نہ کرو۔اس کا حق دو یہ نہیں ہے کہ اگر کسی نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے تو تم بھی ظلم کا جواب ظلم سے دو۔پاکستان میں جیسے حج صاحب نے فرمایا کہ اگر ہم جواب نہیں دیتے تو اس قرآنی تعلیم کی وجہ سے نہیں دیتے کہ ظلم کا جواب ظلم نہیں ہے۔قانون کی مدد جہاں تک حاصل کر سکتے ہو تو کرو، اور قانون جب مدد نہیں کرتا ظلم کی مدد کرتا ہے تو پھر جو ہجرت کر سکتے ہیں ہجرت کر جائیں اور یہی نتیجہ ہے کہ بہت سے احمدی ہجرت کر کے پاکستان سے نکلے۔اور ان لوگوں نے آپ کو جذب کر لیا تو پھر یہ پیغام بھی دینا ہے کہ ایک خوبصورت تعلیم اسلام کی یہ بھی ہے کہ حُبُّ الْوَطَنَ مِنَ الْإِيمَان وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔اب جبکہ اس قوم نے ہمیں اپنے اندر جذب کرلیا، تو ہم اس قوم کا حصہ بن گئے ہیں۔اس ملک سے ہمیں محبت پیدا ہوگئی ہے۔اس ملک میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رزق کے سامان مہیا فرمائے ہیں، اور پاک رزق کے سامان پیدا فرمائے ہیں، اس کو ہم نے ہر طرح سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنی ہے۔اس ملک کے باشندوں کے لیے چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اس ملک کی معیشت کے لیے اس ملک کی دینی حالت کے لیے اس ملک کی عمومی حالت کے لیے اس ملک کی ترقی کے لیے، سائنسی ترقی کے لیے، معاشی ترقی کے لیے، اقتصادی ترقی کے لیے ہم نے کوشش کرنی ہے۔ہم یہ کریں گے اور یہ کر کے دکھا ئیں گے تاکہ ان لوگوں کے شکوک و شہبات دور ہوں کہ ہم لوگ صرف اس لیے یہاں نہیں آئے کہ یہاں سے فائدہ اٹھائیں۔صرف فائدہ اٹھانے نہیں آئے بلکہ جس مجبوری کے بعد آئے اب ان کا یہ حق بنتا ہے اور ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے فرائض کو پوری طرح نبھائیں ، ان کے حقوق ادا کریں، اور اس ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے جو ہم سے کوشش ہو سکتی ہے ہم کریں، اور خالص اللہ اس وطن سے محبت کرنے والے ہوں۔" افضل انٹر نیشنل 26 اگست 2011 ء ) 2012ء کو جرمنی میں حضور کو بے شمار بیوت الذکر کے سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔بیت الصمد گیزن اور بیت فرید برگ کے موقعوں پر حضور نے فرمایا:۔" مساجد کی تعمیر کے بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جو تبلیغ کے نئے راستے کھلنے کا دور ہے اور مجھے اُمید ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ نئے راستے تبلیغ کے کھلیں گے اور یہ شہر جیسا کہ بتایا گیا ہے بڑی تعداد میں پڑھے لکھوں کا شہر ہے اور بڑی تعداد میں سٹوڈنٹس یہاں رہتے ہیں، یونیورسٹیاں یہاں ہیں، علم حاصل کرنے والے لوگ یہاں ہیں اور یہ علم حاصل کرنے والے لوگ جو ہیں ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتانا ہمارا فرض ہے کیونکہ یہ غلط تصور بعض لوگوں میں پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر مغربی ممالک میں کہ اسلام ایسا مذہب ہے جو نئی ایجادات اور نئی باتوں سے دور لے جانے والا ہے۔حالانکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں علم حاصل کرنے کی