ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 462 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 462

462 حاصل کر چکا ہے۔جس میں آپ نے سوسائٹی میں امن اور بھائی چارہ کو قائم کرنے کے اصول وطریق بتلائے۔الغرض ایک نہیں ، دو نہیں ، دس نہیں ، ہمیں نہیں ، بلکہ اب یہ تعداد سینکڑوں میں ہوگی جن میں آپ نے اسلام کی امن و آشتی اور بھائی چارہ کی تعلیم کو اجا گرفرمایا اور ایک دوسرے کے مذہب کے احترام کا سبق دیا۔تثلیث کے غلط عقیدے کا بطلان اور اسلام کی برتری حضور نے خطبہ جمعہ 14اکتوبر 2011ء میں فرمایا:۔ایک زمانہ تھا جب آج سے ساٹھ ستر سال پہلے افریقہ میں عیسائی پادری یہ نعرے لگارہے تھے کہ عنقریب تمام افریقہ عیسائیت کی جھولی میں آکر خدا کے بیٹے کی خدائی کو تسلیم کرنے والا ہے اور تقریباً آج سے ایک سو میں تمہیں سال پہلے تک عیسائی مشنری ہندوستان کے بارے میں بھی یہ اعلان کر رہے تھے کہ عیسائیت کا ہندوستان میں جلد غلبہ ہونے والا ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بندے کو خدا بنانے کے نظریے کو خود اُن کی اپنی کتاب اور عقلی دلائل سے باطل کیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مسلمان جو عیسائیت کی جھولی میں گرنے والے تھے یا۔عیسائیت کو اسلام سے بہتر سمجھتے تھے ہوش میں آنے لگے اور اُس جھوٹے نظریے کو اختیار کرنے سے بچ گئے۔ایک بہت بڑی روک اور دیوار تھی جو آپ نے کھڑی کر کے خدائے واحد کی وحدانیت اور اسلام کی سچائی اور برتری دنیا پر ثابت کر دی۔اسی طرح افریقہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغین نے اسلام کی تبلیغ کر کے تثلیث کے غلط نظریے کی حقیقت کھول کر عیسائی مشنریوں کے سامنے ایک روک کھڑی کر دی جس کا انہیں بر ملا اظہار کرنا پڑا کہ احمدی ہمارے سامنے روکیں کھڑی کر رہے ہیں۔لیکن اسلام کے اس جری اللہ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرستادے کے کام کو دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت نے بجائے خوشی سے اچھلنے اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کے آپ کے خلاف بغض، عناد اور کینہ کا وہ بازار گرم کیا کہ الامان والحفیظ۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے تو بہر حال اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا ساتھ دینا ہے اور دے رہی ہے۔سعید فطرت لوگ آہستہ آہستہ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن اکثریت نام نہاد ملاؤں کے خوف اور علم کی کمی کی وجہ سے مخالفت پر کمر بستہ ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی مخالفانہ کارروائی مسلمان کہلانے والے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان میں احمدیت کے خلاف ہوتی رہتی ہے۔بعض ٹی وی چینل بھی اس میں پیش پیش ہیں جو یورپ اور دنیا میں سنے جاتے ہیں، جو کم علم مسلمانوں کے غلط رنگ میں جذبات بھڑ کا کر احمدیت کے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔بعض ٹی وی چینل اپنی پالیسی کے مطابق اس کی اجازت نہیں دیتے تو کسی رفاہی کام کے بہانے وقت خرید کر یہ شدت پسند لوگ اور فساد پیدا کرنے والے لوگ اس پر بھی کسی نہ کسی بہانے سے اعلان کر دیتے ہیں کہ احمدی واجب القتل ہیں۔گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک چینل پر یہاں یورپ میں ایک مولوی نے یہ اعلان کیا لیکن بہر حال جب چینل کے مالک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے