ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 459 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 459

459 کے فضل سے آج جماعت احمد یہ وہ نمونے پیش کرتی ہے بہت سارے افراد آپ اس میں دیکھیں گے اور انشاء اللہ مسجد کی تعمیر کے بعد یہاں مزید بھی لوگوں کو نظر آئے گا۔اب یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عمل سے مزید اس کو نکھار کر پیش کریں کہ اسلام کی تعلیم وہ خوبصورت تعلیم ہے جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہے۔بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام شدت پسند ہے۔اسلام جنگوں کی تلقین کرتا ہے حالانکہ تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ جنگ مسلمانوں پر ٹھونسی گئی۔بارہ، تیرہ سال مسلمانوں نے صبر کا نمونہ دکھایا اور جب ہجرت کرنے کے بعد بھی ان پر زمین تنگ کی گئی تو تب اللہ تعالیٰ نے اپنے دفاع کے لئے مسلمانوں کو اجازت دی کہ تم اب جنگ کا جواب جنگ سے دے سکتے ہو۔لیکن جو اجازت دی ہے اس میں بھی دیکھیں کہ کیا خوبصورت تعلیم تھی کہ اگر آج تم لوگوں کو دفاع کی اجازت نہ دی گئی اور بعض ظلم کرنے والوں کے ہاتھوں کو نہ روکا گیا تو پھر زمین پر نہ کوئی چہرچ سلامت رہے گا نہ کوئی Synagogue سلامت رہے گا اور نہ کوئی عبادت خانہ سلامت رہے گا اور نہ کوئی مسجد، کیونکہ یہ لوگ جو مسلمانوں کو تنگ کرنے والے ہیں یہ اصل میں مذہب کے خلاف ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے دین کو، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلانے کے خلاف ہیں۔پس یہ ضروری ہے کہ تم اس کا جواب دو تا کہ تم تمام مذاہب کے ماننے والوں کی حفاظت کر سکو۔پس یہ ہے وہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کہ نہ صرف اپنے مذہب کی حفاظت کرتا ہے، اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کی بھی حفاظت کرتا ہے اور انشاء اللہ جب یہ مسجد تعمیر ہوگی آپ دیکھیں گے ، اس علاقے کے لوگ بھی دیکھیں گے۔اور آپ لوگ جو یہاں پر رہتے ہیں آپ کو پہلے سے بڑھ کر یہ دکھانا ہوگا کہ ہم محبت، پیار، امن کی تعلیم نہ صرف دیتے ہیں، نہ صرف منہ سے کہتے ہیں بلکہ عملاً جہاں بھی ہمیں کسی مذہب کے اور کسی عبادت خانے کے لئے حق اور صداقت کی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو ہم ضرور ( الفضل انٹر نیشنل 7 ستمبر 2012ء) کرتے ہیں۔" حضور نے جرمنی میں ہی ایک مقام پر بیت الباقی کے افتتاح کے موقع پر احمدیوں کو نہایت احسن رنگ میں ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی یوں تلقین فرمائی: "اسلام بے شک یہ کہتا ہے کہ مذہب میں جبر نہیں۔یقیناً ہر ایک کو اختیار ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے۔لیکن ساتھ دنیا کو یہ بھی بتا دو یہ بھی پیغام دے دو کہ رشد اور ہدایت آچکی ہے، فرق اس کا واضح ہو چکا ہے۔اب تمہاری مرضی ہے اسے قبول کرو یا نہ کرو لیکن پیار اور محبت سے نہ کہ سختی سے، پھر اپنے عملوں کے اظہار سے جو دنیا کے لیے نمونہ ہو۔اصل چیز تو عمل ہیں جو نمونہ بنتے ہیں ، اس سے دنیا کو توجہ پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ان لوگوں کی بڑی بلند حوصلگی ہے، وسعت ہے حوصلہ میں کہ انہوں نے ہمارے مظلوم احمدیوں کو اپنے اندر جذب کیا۔اب یہ ہمارا بھی فرض ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے اور وہ احسان کیا ہے کہ حقیقی تعلیم اسلام کی لوگوں