ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 458 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 458

458 بيوت الذکر کی تعمیر اور اسلامی تعلیم کی تشہیر ہمارے امام ہمام حضرت خلیفہ اصبح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دس سالہ مبارک تاریخ ساز دور میں دنیا بھر کے تمام براعظموں میں دسیوں نہیں بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں بیوت الذکر کا سنگ بنیادرکھا یا افتتاح فرمایا۔افتتاح کے موقعوں پر جماعتوں نے تقاریب کا انعقاد کیا جن میں مذہبی، سیاسی ، سماجی رہنماؤں کو مدعو کیا جاتارہا۔جن میں شہر کے میئرز، ممبران پارلیمنٹ، وکلاء، حجز ، پروفیسرز، انجینئر ز الغرض تمام مکتبہ ہائے فکر اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ اور بہت سے رہنما شامل ہوتے رہے۔جن سے ہمارے پیارے امام نے خطاب فرمائے جو تاریخ احمدیت کے روشن باب میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حاضرین کو یہ تسلی دلائی اور یقین دلوایا کہ اسلام ایک پُر امن مذہب ہے جو تمام مذاہب کے انبیاء کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے پیروکاروں سے محبت سے پیش آنے کی تلقین کرتا ہے۔ہم تو دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے معمولی نفرت کا بھی نہیں سوچ سکتے۔اور یہ مساجد امن، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دیتی ہیں۔یہاں چند ایک مواقع پر حضور کے خطاب کا ذکر کیا جاتا ہے۔بیت الرحمن و نیکو و کینیڈا کے افتتاح پر منعقدہ خصوصی تقریب میں حضور نے فرمایا: " آج کے دور میں غیر مسلم دنیا میں لوگوں کا ایک بڑا حصہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرتا ہے کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر مذاہب کے متعلق شدت پسندانہ طریق اپنایا تھا۔اسلام اور بانی اسلام کے خلاف بے انتہا پراپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ایک طرف تو اسلام کے مخالفین مذہب سے خوفزدہ ہیں اور دوسری طرف وہ بانی اسلام پر حملہ کرنے کی غرض سے ان کے خلاف انتہائی بیہودہ، غیر مہذب اور نفرت آمیز اعتراضات کرتے ہیں۔وہ یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اصل تاریخ سے بے خبر ہیں اور انہیں اسلام کی حقیقی اور بے داغ تعلیمات سے آگاہی حاصل نہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے بعض گروہوں کے شدت پسندانہ اعمال ہی اس نفرت اور فکر مند حالت کو پیدا کرنے کا موجب ہوئے ہیں۔تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ نام نہاد مسلمان ایسے اعمال اس لئے بجالاتے ہیں کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے دور جا چکے ہیں۔" الفضل انٹر نیشنل 19 جولائی 2013ء) آخن جرمنی کا ایک شہر ہے جس کا آدھا حصہ یحیم میں ہے۔2012ء میں اس شہر میں حضور کو بیت الذکر کے سنگ بنیا در کھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔اس موقع پر حاضرین سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا: "دین میں کوئی جبر نہیں کوئی سختی نہیں، ہر شخص آزاد ہے۔اپنے مذہب کے معاملے میں آزاد ہے اور یہ بھی بتا دیا کہ اسلام کی تعلیم وہ خوبصورت تعلیم ہے کہ اگر اس کو قبول کرو گے تو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بنو گے۔اللہ تعالیٰ