ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 457
457 اکٹھے کرنے ہیں۔انفرادی طور پر ہر شخص خط لکھے یعنی 100 خدام اگر جواب دیں گے تو اپنے اپنے انداز میں۔خط کی صورت میں کوئی تاریخی ، واقعاتی گواہی دے رہا ہوگا اور کوئی قرآن کی گواہی بیان کر کے جواب دے رہا ہوگا۔اس طرح کے مختلف قسم کے خط جائیں گے تو اسلام کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تصویر واضح ہوگی۔ایک حسن ابھرے گا اور لوگوں کو بھی پتہ لگے گا کہ یہ لوگ کس حسن کو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے ماند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جو تصور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لئے مسلمانوں کے پاس دلیل نہیں ہے اس لئے جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔اس کو بھی اس سے رد کرنا ہوگا۔ہمارے پاس تو اتنی دلیلیں ہیں کہ ان کے پاس اتنی اپنے دفاع کے لئے نہیں ہیں۔لیکن کیونکہ مسلمان تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔اس لئے انبیاء کے خلاف تو کوئی بات کر نہیں سکتے اور یہ لوگ بے شرم ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے شر سے پناہ دے۔" خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 105-106 ) اخبارات میں مضامین کے ذریعہ توہین رسالت کا جواب حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے غیروں کی طرف سے کی جانے والی تو ہین رسالت کے جواب میں جو اقدامات اٹھانے کی طرف توجہ دلائی۔احباب جماعت نے لبیک یا سیدی کہتے ہوئے بھر پور رنگ میں جواب دینے کے مختلف انداز اپنائے۔جن کا ذکر اختصار کے ساتھ اس کتاب کے مختلف حصوں میں آچکا ہے۔احباب جماعت نے ایک طریق اخبارات میں خطوط اور مضمون لکھنے کا بھی اپنایا جن میں اسلام کا دفاع کیا اور اس کی حسین تعلیم سے قارئین کو آگاہ کیا گیا۔2013ء میں ایک عیسائی پادری خاتون Dr۔Christine Schirmacher نے Die Ahmadiyya Bewegung یعنی تحریک احمدیت کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں موصوفہ نے لکھا کہ بانی جماعت احمدیہ نے حضرت عیسی کی توہین کی ہے۔الفضل انٹر نیشنل میں اس کے جواب میں ایک جامع مانع مضمون شائع ہوا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ و فرمودات کی روشنی میں حضرت عیسی علیہ السلام کا مقام درج ہے۔الفضل انٹر نیشنل 21 دسمبر 2007ء) کتب کی نمائش و میلے حضور کے ارشاد پر عالمی سطح پر کتب کے میلوں یا نمائش میں جماعت نے اپنی کتب اور بالخصوص قرآن کریم کی بھی نمائش کی۔اس کے علاوہ جماعت نے مختلف ممالک میں اپنی سطح پر قرآن کی نمائش کا اہتمام کیا۔ان موقعوں پر مبلغین و عہدیداران و احباب جماعت نے اسلام کی امن وسلامتی کا پیغام پہنچایا، لاکھوں کی تعداد میں لٹر پھر تقسیم ہوا۔جس سے اسلام کی صحیح تصویر لوگوں تک پہنچی۔