ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 456 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 456

456 پر نہ کوئی چرچ سلامت رہے گا ، نہ کوئی Synagogue سلامت رہے گا، نہ کوئی عبادت خانہ سلامت رہے گا اور نہ کوئی مسجد، کیونکہ یہ لوگ جو مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے والے ہیں یہ اصل میں مذہب کے خلاف ہیں۔پس یہ ضروری ہے کہ تم اب اس کا جواب دو تا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کی حفاظت کر سکو۔پس یہ ہے اسلام کی سچی اور خوبصورت تعلیم۔مسلمان اگر یہ کہتے ہیں کہ اسلام حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے جب چاہیں حملہ کر دیں تو یہ غلط ہے۔درست نہیں ہے۔اب تو امام کعبہ نے بھی کہا ہے کہ ہم تلوار نہ اٹھائیں۔بلکہ اسلام کا امن کا پیغام بات چیت اور گفتگو کے ذریعہ پہنچائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی کہا تھا کہ مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرنے آیا ہوں۔پس آج کے دور میں جو جہاد ہے وہ قلمی جہاد ہے لٹریچر کے ذریعہ جماعت احمد یہ یہ جہاد کر رہی ہے۔الفضل اند نیشنل 03 اگست 2012ء) اس دورہ پر کینیڈا میں بھی میڈیا کوریج ہوئی اور CNN نے ایک لمبی خبر آپ کی آمد پر 3 تصاویر کے ساتھ دی۔جس میں آپ کے الفاظ میں پیغام یوں نشر ہوا: یہ وقت ہے کہ مسلم جماعت اسلام کی اصل اور حقیقی تصویر پیش کرے۔میں ہمیشہ امن کی بات کرتا رہوں گا۔یہ امن میری طرف سے نہیں یا کوئی نئی تعلیم نہیں بلکہ یہی حقیقت میں اصل تعلیم ہے جو میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔الفضل انٹر نیشنل 21 ستمبر 2012 ء ) اخبارات میں خطوط لکھنے کی ہدایت حضور انور نے خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء میں فرمایا :۔ایسے لوگ جو یہ لغویات ،فضولیات اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔اس کے لئے گزشتہ ہفتے بھی میں نے کہا تھا کہ جماعتوں کو انتظام کرنا چاہئے۔مجھے خیال آیا کہ ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کو بھی کہوں کہ وہ بھی ان چیزوں پر نظر رکھیں کیونکہ لڑکوں، نوجوانوں کی آج کل انٹرنیٹ اور اخباروں پر توجہ ہوتی ہے، دیکھتے بھی رہتے ہیں اور ان کی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ نظر رکھیں اور جواب دیں۔اس لئے یہاں خدام الاحمدیہ بھی کم از کم 100 ایسے لوگ تلاش کرے جو اچھے پڑھے لکھے ہوں جو دین کا علم رکھتے ہوں۔اور اسی طرح لجنہ اپنی 100 نوجوان بچیاں تلاش کر کے ٹیم بنا ئیں جو ایسے مضمون لکھنے والوں کے جواب مختصر خطوط کی صورت میں ان اخبارات کو بھیجیں جن میں ایسے مضمون آتے ہیں یا خطوط آتے ہیں۔آج کل پھر اخباروں میں مذہبی آزادی کے اوپر ایک بات چیت چل رہی ہے۔اسی طرح دوسرے ملکوں میں بھی جہاں جہاں یہ اعتراضات ہوتے ہیں۔وہاں بھی اخباروں میں یا انٹر نیٹ پر خطوط کی صورت میں لکھے جاسکتے ہیں۔یہ خطوط گو ذیلی تنظیموں کے مرکزی انتظام کے تحت ہوں گے لیکن یہ ایک ٹیم کی Effort نہیں ہوگی بلکہ لوگ