ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 455 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 455

455 اور اس بات کے لئے کوشاں رہنا چاہئے کہ ان کے لئے روشن مستقبل کی کرنیں پھوٹیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔" سالانہ امن ایوارڈ (الفضل انٹر نیشنل 8 جون 2012ء) دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد یا ادارہ اجات کو جماعت احمدیہ گزشتہ چند سالوں سے امن ایوارڈ ( 10 ہزار پاونڈ ) بھی دیتی ہے۔جو امن عامہ اور خدمت انسانیت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہوتا ہے۔یہ ایوارڈ بھی دراصل جماعت کی تعلیمات اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ اسیح کی دلی خواہش ہے کہ دنیا، بالخصوص مسلم ممالک میں دہشتگردی اور بمب بلاسٹ کی جورو چل نکلی ہے۔سراسر اسلامی تعلیم کے منافی ہے اور اپنی ذات میں ایک ظلم ہے اور اسے اسلامی تعلیم کی طرف منسوب کرنا اس سے بڑا ظلم ہے۔اب تک تین ایوارڈ دیے جاچکے ہیں۔جماعت احمدیہ کے اس اقدام کو بھی دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کوانٹرویوز میں اسلامی تعلیم دورہ امریکہ 2012ء کے دوران CNN کو انٹر ویو دیتے ہوئے حضور نے فرمایا ہمارے لئے دنیا میں امن ایک انتہائی اہم ایشو ہے کیونکہ آجکل اسلام کو وہ لوگ بدنام کر رہے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن وہ اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم پر نہیں چل رہے اور دہشت گردی اور قتل و غارت میں ملوث ہیں تو اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کا حقیقی پیغام، امن کا پیغام صلح و آشتی کا پیغام دنیا کو پہنچائیں۔پس آج احمدیت ہی اسلام کی سچی اور حقیقی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے اس لئے لوگ احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔دنیا کے تمام ممالک میں ایسا ہے۔۔۔۔۔آجکل اسلام کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور یہ ان انتہا پسند مسلمانوں کی وجہ سے ہے جو اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل نہیں کرتے اور ان کا رویہ متشددانہ ہے۔جماعت احمد یہ جوتعلیم پیش کر رہی ہے وہ قرآن کریم کی ہی تعلیم ہے اور اسلام کی سچی تعلیم ہے۔۔۔۔اسلام کی تاریخ میں کبھی بھی مسلمانوں کی طرف سے کسی کے خلاف پہلے تلوار نہیں اٹھائی گئی۔جب بھی تلوار اٹھی ہے تو اپنے دفاع کے لئے اٹھی ہے۔ہمیشہ مخالفین اسلام نے پہل کرتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کیا ہے تو مسلمانوں نے اپنا دفاع کیا ہے اور خصوصی حالات میں مسلمانوں کو اپنے دفاع کی اجازت دی گئی۔قرآن کریم نے اس اجازت دیئے جانے کا ذکر کیا ہے کہ جب ہجرت کرنے کے بعد بھی مسلمانوں پر زمین تنگ کی گئی تب اللہ تعالیٰ نے اپنے دفاع کے لئے مسلمانوں کو اجازت دی کہ تم اب جنگ کا جواب دے سکتے ہو اور اجازت دیے جانے کی وجہ بھی بتائی کہ اگر آج تم لوگوں کو دفاع کی اجازت نہ دی گئی اور بعض ظلم کرنے والوں کے ہاتھوں کو نہ روکا گیا تو پھر زمین