ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 454
454 امریکہ کے صدر کے نام خط " آج دنیا میں غیر معمولی بے چینی اور اضطراب پھیلا ہوا ہے۔بعض مخصوص خطوں میں چھوٹے پیمانے پر جنگیں لڑی جارہی ہیں اور بدقسمتی سے عالمی طاقتیں ان شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لئے اس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ہمیں نظر آرہا ہے کہ آج دنیا کا تقریباً ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کی حمایت میں مصروف عمل ہے یا پھر غیروں کی دشمنی پر کمر بستہ ہے اور سب نے ہی انصاف کی فراہمی کا خانہ خالی چھوڑا ہوا ہے۔نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اگر کوئی عالمی منظر نامہ مجموعی طور پر دیکھے گا تو وہ بول اٹھے گا کہ ایک نئی عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔اب دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی اثاثوں کے مالک بن چکے ہیں اور اس پر مستزاد ان ممالک کی آپس کی دشمنیاں، کینے اور عداوتیں ہیں جو روز افزوں ہیں۔اس گھمبیر صورت حال میں " تیسری عالمی جنگ" کے بادل پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک حد تک گھنے ہو چکے ہیں۔ظاہر بات ہے کہ اُس جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا بھی استعمال ہوگا۔پس یقیناً ہم خطرناک تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔اگر "جنگ عظیم دوئم " کے بعد ہی عدل وانصاف کے تقاضوں سے پہلو تہی نہ کی جاتی تو آج ہم اس دلدل میں پھنسے ہوئے نہ ہوتے جہاں ایک مرتبہ پھر خطرناک جنگ کے شعلے دنیا کوگھیر نے کے لئے تیزی سے قریب آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری آپ سے بلکہ تمام عالمی لیڈروں سے یہ درخواست ہے کہ دوسری قوموں کوز برنگین کرنے کے لئے طاقت کی بجائے سفارتکاری، سیاست اور دانشمندی کو بروئے کارلائیں۔بڑی عالمی طاقتوں، مثلاً امریکہ کو دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور چھوٹے ممالک کی غلطیوں کو بہانہ بنا کر دنیا کا نظم ونسق بر باد نہیں کرنا چاہئے۔اس حقیقت کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ آج صرف امریکہ اور بڑی طاقتوں کے پاس ہی ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے ممالک بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان ممالک میں ایسے لوگ برسراقتدار ہیں جو زیادہ گہری سمجھ بوجھ رکھنے والے بھی نہیں ہیں اور معمولی باتوں پر اشتعال میں آکر فیصلے کر سکتے ہیں۔اس بنا پر میں آپ سے پر زور درخواست کروں گا کہ دنیا کی بڑی اور چھوٹی طاقتوں کو تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑکانے سے باز رکھنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں وقف کر دیں۔ہمیں اپنے ذہنوں سے یہ و ہم نکال دینا چاہئے کہ اگر ہم قیام امن کی کوششوں میں نا کام بھی ہو گئے تو جنگ کے شعلے صرف چند چھوٹے ملکوں تک محدودر ہیں گے۔یہ جنگ ایشیا کے غریب ممالک سے نکل کر یورپ اور امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گی نیز ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی جب ایٹمی جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں اپاہج یا بد ہیئت بچے جنم لیں گے۔وہ آنے والی نسلیں اس قدر شدید عالمی تباہی کا باعث بننے والے اپنے اجداد کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔یقیناً آج مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی چاہئے