ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 453 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 453

453 سب جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے غیروں کے لئے بغض و کینہ اور دشمنیاں بھی پال رکھی ہیں جو روز افزوں ہیں۔اس مشکل صورت حال میں ہمیں " تیسری عالمی جنگ" کے بادل منڈلاتے صاف نظر آرہے ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کی یہ فراوانی صاف بتا رہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ ایک " ایٹمی جنگ " ہوگی۔جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر انتہائی تباہی کے علاوہ ، ایسی جنگوں کا تلخ نتیجہ آئندہ نسلوں کے اپانج یا بد ہیئت پیدا ہونے جیسی صورتوں میں سامنے آئے گا۔میرا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جو امن عالم کو قائم کرنے کے لئے اور رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِيْن بن کر مبعوث ہوئے تھے، کے امتی ہونے کے ناطے ہمیں بھی بھی برداشت نہیں ہوگا اور نہ ہم برداشت کر سکتے ہیں کہ دنیا میں ایسی تباہی واقع ہو۔لہذا میری ایران سے درخواست ہے کہ وہ اپنی عالمی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔اس حقیقت میں ذرہ بھر بھی شائبہ نہیں ہے کہ عالمی طاقتوں نے دوہرے معیارا پنار کھے ہیں۔یقیناً یہ ان طاقتوں کی بے انصافی ہی ہے جس نے ساری دنیا میں بے چینی اور بدامنی پھیلا رکھی ہے۔تاہم اس حقیقت سے بھی فرار ممکن نہیں ہے کہ بعض مسلمان گروہ اسلامی تعلیم سے منافی اور ناواجب افعال کے مرتکب ہورہے ہیں۔بڑی عالمی طاقتوں نے مسلمان ممالک کی اس خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس صورت حال کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنالیا ہے اور غریب مسلم ممالک سے فوائد حاصل کئے جارہے ہیں۔اس بنا پر میں آپ سے ایک بار پھر درخواست کروں گا کہ اپنی تمام تر توجہ اور طاقت اس مقصد کے لئے وقف کر دیں کہ دنیا سے " تیسری عالمی جنگ " کا خطرہ ٹل جائے۔۔۔۔آپ کو دوسری قوم کی محض دشمنی اور نفرت کی بنا پر مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور اس کی نگاہیں ایران پر ہیں۔در حقیقت کوئی بھی ملک اگر آپ پر جارحانہ حملہ کرتا ہے تو آپ کو دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔تا ہم جس حد تک ممکن ہو تصفیہ طلب امور کے لئے بین الاقوامی تعلقات کے انصرام اور مذکرات کی راہ اپنانی چاہئے۔میری آپ سے عاجزانہ استدعا ہے کہ اختلافی امور کے حل کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے ڈائیلاگ (Dialogue) کا راستہ اختیار کریں۔۔۔( الفضل انٹر نیشنل 8 جون 2012ء) خلاصہ خط بنام وزیر اعظم کینیڈا اقوام عالم کے باہمی جھگڑوں اور چھوٹی بڑی عالمی طاقتوں کی طرف سے روا ر کھے جانے والے نا انصافی کے سلوک نے پہلے ہی عالمگیر تباہی کی بنیا درکھ چھوڑی ہے۔حضور نے وزیر اعظم کینیڈا سے استدعا کی کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنی کوششیں صرف کریں لیکن ایسا کرتے ہوئے صرف پرامن ذرائع کو بروئے کار لایا جائے اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔الفضل انٹر نیشنل 8 جون 2012ء)