ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 452 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 452

452 اعظم اور ایران و امریکہ و دیگر ممالک کے صدران شامل ہیں۔یہ خطوط انگریزی میں تھے۔یہاں ان میں سے کچھ حصہ کا اُردوترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔جس سے امام جماعت احمدیہ کے دل کی کیفیت اور آپ میں بنی نوع انسان کے ساتھ پائی جانے والی محبت کی عکاسی ہوتی ہے کہ آپ اسلام اور اس کے دفاع کے لئے کیسا در در کھتے ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم کے نام خط " آج کل ہم خبروں میں سن رہے ہیں کہ آپ ایران پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں یعنی ”عالمی جنگ“ کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں۔پچھلی عالمی جنگ میں جہاں لاکھوں لاکھ دوسرے لوگ لقمہ اجل بنے وہاں ہزاروں یہودی بھی کام آئے۔اپنے ملک کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی قوم کی جانوں کی حفاظت کریں۔عالمی منظر نامہ صاف بتا رہا ہے کہ اب انگلی عالمی جنگ محض دو ملکوں کی لڑائی نہیں ہوگی بلکہ ملکوں کے بلاک بن کر سامنے آئیں گے۔عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ نہایت سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے جس سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی جانوں کا ضیاع خارج از امکان نہیں ہے۔خدانخواستہ اگر ایسی جنگ بھڑ کی تو یہ انسانی جانوں کے تلف ہونے کا سلسلہ در سلسلہ نظارہ ہوگا۔اور پانچ یا معذوری کے ساتھ پیدا ہونے والی آئندہ نسلیں بھی اس جنگ کا خمیازہ بھگتیں گی کیونکہ یہ سب کو نظر آرہا ہے کہ اگلی جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا بھی استعمال ہوگا۔پس میری آپ سے درخواست ہے کہ دنیا کو جنگ کے دہانے پر پہنچانے کی بجائے اپنی انتہائی ممکن کوشش کریں کہ انسانیت عالمی تباہی سے محفوظ رہے۔باہمی نزاعوں کو طاقت کے استعمال سے حل کرنے کی بجائے ڈائیلاگ کا راستہ اپنائیں تا کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو تابناک مستقبل مہیا کر سکیں۔ایسانہ ہو کہ ہم انہیں جسمانی معذوری اور خرابیاں ہی تھے ، میں دینے والے بن جائیں۔( الفضل انٹر نیشنل 8 جون 2012ء) اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے نام خط امن عالم کو درپیش حالیہ شدید خطرات نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں آپ کی طرف یہ خط لکھوں۔آپ ایران کی حکومت کے سر براہ ہونے کے ناطے ایسے فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے ہیں بلکہ وہ فیصلے پوری دنیا کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔آج ہم ہر طرف بے چینی اور اضطراب مشاہدہ کر رہے ہیں یعنی دنیا کے کچھ خطوں میں تو چھوٹے پیمانے پر جنگیں شروع ہوچکی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں عالمی طاقتیں بظاہر ایسی کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح امن قائم ہو جائے۔آج دنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے یا کسی دوسرے ملک کا مددگار بنا ہوا ہے لیکن انصاف کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں ہے۔عالمی حالات دیکھتے ہوئے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ " تیسری عالمی جنگ " کا ڈول ڈالا جا رہا ہے۔