ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 451 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 451

451 اسلام کی اشاعت کے لئے کبھی بھی تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا۔ایمان کا دار ومدار دل پر ہے۔تشدد سے دل کبھی بھی قائل نہیں کئے جاسکتے۔مکہ کے مسلمان 13 سال تک تشدد سہتے رہے لیکن زبان سے اُف تک نہ کی۔جب تلوار اٹھانے کی اجازت بھی ملی تو صرف اپنے دفاع کے لئے۔۔۔۔۔اسلام تو ایسا حسین مذہب ہے کہ اپنے مخالفوں سے بھی حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ہم صرف اسی مذہب کو جانتے ہیں جو محبت اور پیار کا مذہب ہے۔اسلام صرف اتنی اجازت دیتا ہے کہ تم اپنا دفاع کر لو۔دفاع کے بعد زیادتی کی جانب راغب ہونے سے منع کیا ہے۔" الفضل ان نیشنل 22 اگست 2008 ء تمام مذاہب کے بانیان کا احترام کریں 2012ء میں نا کسکو ( ڈنمارک ) بھی حضور انور تشریف لے گئے۔جہاں میئر کے نمائندہ، چرچ کے پادری اور اسکول کے ٹیچروں نے حضور انور سے ملاقات کی۔حضور نے اس دوران فرمایا: " ہر مذہب کا احترام کیا جائے۔تمام مذاہب کے بانیان کا احترام کریں اور سب کو عزت دیں۔ایک دوسرے کی عزت کریں۔ہر مذہب کے پیروکاروں کا احترام کریں اور معاشرہ میں باہمی اخوت، بھائی چارہ اور رواداری قائم کریں۔یہی میرا پیغام ہے جو میں تمام دنیا میں دے رہا ہوں۔ہمارا مائٹو یہ ہے کہ " محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں " آپ یہاں نا کسکو میں ہمارے سینٹر، ہماری مسجد سے ، ہمارے ممبران سے کوئی بُری بات نہیں سنیں گے۔انٹرفیتھ ڈائیلاگ ہونے چاہئیں تاکہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔اگر آپ مذہب پڑھاتے ہیں تو آپ کو اسلام کا علم ہوگا۔مذہب اسلام کا اصل ماخذ قرآن کریم ہے۔اس کی شارٹ کمینٹری بھی موجود ہے اور Five Volume Commentary بھی موجود ہے۔یہ کمیٹڑی پڑھیں گے تو آپ کو صحیح طرح اسلام کی تعلیمات کا علم ہوگا اور آپ اسلام کوسمجھ سکیں گے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اسلام کی تعلیم کو بہترین طریق سے بیان الفضل انٹر نیشنل 13 جنوری 2012ء) کرتے ہیں۔" سربراہان مملکت کو خطوط حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقانیت اور برتری ثابت کرنے اور تمام طبقہ ہائے فکر تک اسلام کی صحیح تعلیم پہنچانے کے لئے جو طریق اختیار فرمائے ان میں سے ایک خطوط کا طریق بھی تھا۔پوپ کے نام آپ کے خط کا ذکر گزشتہ صفحات پر ہم کر آئے ہیں۔2012ء میں امن عالم کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں جس میں ایک مہیب عالمی جنگ کے خطرات نوع انسانی کے سر پر منڈلا رہے تھے۔آپ نے دنیا کے اہم رہنماؤں کو خصوصیت کے ساتھ جنگ سے گریز اور ڈائیلاگ ( Dialogue) کے ذریعہ امن و انصاف کے قیام کے لئے خطوط بھجوائے جن میں اسرائیل و کینیڈا کے وزرائے