ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 449 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 449

449 یہی انصاف ہے۔لا مذ ہب لوگوں کو بھی پیغمبروں اور مذاہب کی تضحیک یا بے ادبی نہیں کرنی چاہیے۔قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ جوں کو بھی بُرا نہ کہو، کیونکہ جوابا ان بچوں کی پوجا کرنے والے خدا کے خلاف باتیں کریں گے۔دوسرے کے جذبات کی ہمیشہ قدر کرنی چاہیے۔یہ اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے اور کسی بھی قانون کی بنیاد ہونا چاہیے۔مغرب بھی روز مرہ زندگی میں نرمی اور بردباری کی تعلیم پر یقین رکھتا ہے، پھر مذہبی معاملات میں ایسا کیوں نہ ہو؟۔۔۔۔۔اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے تو مذہب کو الزام نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی مذہبی لیڈروں کو الزام دینا چاہیے۔بلکہ جو غلط کام کر رہا ہے صرف اس کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے اور limits سے باہر نہیں جانا چاہیے۔حوصلہ اور برداشت ہونی چاہئے۔جہاں تک متشدد مسلم ملاؤں کی اصلاح کا تعلق ہے، اس کا امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ سب حدیں پھلانگ چکے ہیں۔ان کو اچھے یا بُرے کی تمیز نہیں رہی۔وہ خود کو بھی تباہ و برباد کریں گے اور اپنے پیروکاروں کو بھی تباہ کریں گے۔الفضل انٹر نیشنل 7 اکتوبر 2011ء) اسلام میں بلا غمی کا کوئی قانون نہیں مسلم پبلک افیئر ز کونسل آف امریکہ کے نمائندہ کی حضور انور سے ملاقات کے دوران حضور انور نے فرمایا: "اگر آپ قرآن کریم کو غور سے پڑھیں تو وہاں کسی Blasphemy Law کا ذکر نہیں ملتا۔اگر کسی نے کبھی کوئی بلاشمی لا ء بنانا ہے تو پھر وہ تمام انبیاء، تمام بانیان مذاہب کے لئے ہونا چاہئے کہ کسی ایک کی بھی تو ہین نہ ہو۔ہر ایک کی عزت واحترام واجب ہے۔صرف ایک مذہب پر فوکس نہ ہو۔اسلام نے ، قرآن کریم نے تو یہی تعلیم دی ہے کہ ہم ہر نبی پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی عزت و احترام ہم پر واجب اور لازم ہے۔رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے کہ اس نے ایک غزوہ سے واپسی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح طور پر انتہائی گستاخی کی تھی۔یہاں تک کہ اس نے اپنے متعلق اہل مدینہ میں سے سب سے زیادہ معزز ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔(المنافقون: 9) اس عبد اللہ بن ابی بن سلول کے اپنے بیٹے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میرے باپ نے اس طرح آپ کی گستاخی اور توہین کی ہے۔اگر اسے کوئی سزا دینی ہے اور اس کی سزا قتل ہے تو میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کو قتل کروں گا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرما دیا اور اجازت نہ دی اور اس گستاخ رسول کو کسی قسم کی کوئی سزا نہ دی۔یہ وہ موقع تھا کہ اگر کوئی بلا غمی لاء، توہین رسالت کا کوئی قانون ہوتا تو اس کا ذکر کیا جاتا۔لیکن قرآن کریم نے کسی ایسے قانون کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی ایسے قانون کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتا ہے۔" الفضل انٹر نیشنل 10 اگست 2012 ء )