ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 448
448 ان کا نمونہ ہمیشہ ایک ہوگا۔تمام احمدی رضائے باری تعالیٰ کے طالب بنتے ہوئے ہمیشہ ہر قسم کے فساد سے باز رہتے ہیں اور یہ وہ طرز عمل ہے جو نہ صرف دنیا کو بدنظمی سے بچانے والا ہے بلکہ ایک دن امن عالم کا ضامن ہوگا۔" الفضل انٹر نیشنل 24 فروری 2012ء) انٹر فیتھ سمپوزیم (Inter Faith Symposium) اس سے قبل ان امن کانفرنسز کی ایک جھلک پیش کی جاچکی ہے۔جن میں جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی: یہاں یہ بتانا بھی خالی از فخر نہیں کہ دنیا بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں امن کا نفرنسز یا انٹر فیتھ سمپوزیم (Symposium) منعقد ہوئے۔جن میں اسلام کی تعلیم بابت امن و سلامتی غیروں کو پہنچائی گئی۔جیسے 15 اپریل 2007 ء کو گلاسکو۔اسکاٹ لینڈ میں How to Establish Peace کے عنوان پر جبکہ 17 اگست 2007 ء کو Hays لندن میں Role of Religion Bringing Peace and Harmony in society کے عنوان پر امن کا نفرنسز ہوئیں۔(الفضل انٹر نیشنل 6 جولائی اور 7 دسمبر 2007ء) جنوری 2008ء میں کیلگری کینیڈا میں انٹر فیتھ سمپوزیم اور جلسہ ہائے سیرۃ النبی منعقد ہوئے۔ان مواقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر مشتمل بینرز آویزاں کیے گئے تھے۔الفضل انٹر نیشنل 8 فروری 2008ء) 2013ء میں فرانس میں متعدد بین المذاہب کانفرنسز اور سیرۃ النبی کانفرنسز منعقد ہوئیں۔جن میں غیر مسلم لوگوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔جن چار لڑکوں نے امن کانفرنسز کے پوسٹرز پھاڑے تھے ان میں سے ایک لڑکے کے والدین نے ان کا نفرنسز میں شرکت کی۔جن کو اسلام کی امن کی تعلیم سن کر حیرانگی ہوئی اور انہوں نے اپنے بیٹے کی حرکت پر معذرت بھی کی۔الفضل انٹر نیشنل 23 اگست 2013ء) سر کردہ لیڈروں سے ملاقات کے دوران اسلام کی تعلیم کو اجاگر کرنا جیسا کہ اوپر درج ہو چکا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ نے دنیا کے سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کے دوران اسلامی تعلیم کا ذکر فرمایا۔بعض دفعہ دنیا بھر میں اسلام کے خلاف نفرتیں پھیلانے کی سازشوں کا ذکر کر کے بھی اسلامی تعلیم کو اجاگر کیا۔جیسے جون 2011 ء کے دورہ یورپ کے دوران برلن جرمنی میں ممبر قومی اسمبلی Mr۔Stefan Rupper سے ملاقات کے دوران فرمایا: کسی شخص کو بھی اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ بانیان مذاہب یا کسی بھی مذہب کی تضحیک یا بے ادبی کرے۔