ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 447 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 447

447 امن سمپوزیم سے خطاب جماعت احمد یہ برطانیہ کے زیر اہتمام 26 مارچ 2011ء کو منعقد ہونے والی امن سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔"جماعت احمدیہ حقیقی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سارے عالم میں امن کے قیام اور ظلم کے خاتمے کی پر جوش تمنا رکھتی ہے۔لیکن بد قسمتی سے عملی طور پر امن قائم کروانے لئے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ہم دنیاوی لحاظ سے کوئی بھی طاقت نہیں رکھتے۔دوسروں کے مقابلے میں ہم ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت ہیں جو فی الوقت دنیا کی نظر میں کوئی بھی قابل قدر مقام نہیں رکھتی۔لیکن جو بھی ہو ہمارے بلند عزائم بالآخر ہمیں اس مقام تک پہنچا دیں گے جہاں سے ہم دنیا میں امن کے قیام کے لئے اہم کردار ادا کرسکیں گے یعنی وہ امن عالم جس کی بنیاد حقیقی اسلامی تعلیم پر ہوگی اور تب دنیا اسلام کو امن اور سلامتی کے روشن مینار کی حیثیت سے پہچان لے گی۔اسلامی تعلیمات ہمیں ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا حکم دیتی ہیں۔جب حضرت نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے سوال کیا کہ ایک بے رحم ظالم کی کس طرح مدد کی جاسکتی ہے؟ آپ نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ اس کا ہاتھ روک کر۔یعنی اس کو گنا ہوں سے باز رکھ کر تم اس کی مدد کر سکتے ہو۔ظالم سمجھتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے مخالف کو زیرنگین کرسکتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو مذہبی سوچ رکھتے ہیں وہ اس یقین پر قائم ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی سب طاقتوں کا مالک ہے اور وہ ظالم کو ضرور سزا دے گا۔پس ظالم کی مدد کرنا یہ ہے کہ اسے ظلم کرنے سے روک دیا جائے تا کہ وہ خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ جائے۔اس حقیقت کے باوجود کہ فی الوقت ہماری جماعت کے پاس وہ ظاہری اسباب میسر نہیں ہیں جن سے وہ ظالم کا ہاتھ ظلم سے روک سکے اور ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا فرض ادا کر سکے لیکن پھر بھی ہم لوگوں کی راہنمائی کر کے انہیں ہر قسم کے ظلم وجور سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لئے ہم صاحب اقتدار لوگوں کو متوجہ کرتے اور دعا سے مدد لیتے ہیں۔اگر برسر اقتدار حکومتیں اور ادارے بلکہ بین الاقوامی ادارے امن عالم کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو پھر ان کی طاقت بالآخر بے فائدہ قرار پائے گی۔اب اگر ہم اقوام متحدہ کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں اس کی تاریخ میں نظر آئے گا کہ سوائے چند مواقع کے اقوام متحدہ نے کبھی بھی انصاف کے مطلوبہ معیار پورے نہیں کئے۔اس وجہ سے یہ اپنی مکمل ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہے۔اس ناکامی کے اسباب میں مادیت پسندی، حلیف اور بلاک بنانا بخصوص ذاتی مفادات، ذاتی دشمنی اور رنجشیں وغیرہ شامل ہیں۔پس اقوام متحدہ حقیقی امن قائم کرنے سے قاصر ہے اور غیر جانبداری اور شفاف معاملہ نہ کرنا اس کی وجوہات ہیں۔۔۔۔دنیا میں جہاں کہیں بھی احمدی بستے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں، خواہ وہ ایشیائی احمدی ہوں یا افریقی احمدی ہوں عرب ہوں یا یورپین یا امریکی،