ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 446
446 بیت الفتوح میں امن کا نفرنس سے خطاب مورخہ 24 مارچ 2007 ء کو بیت الفتوح میں امن کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں ممبران ہاؤس آف لارڈذ ممبران پارلیمنٹ ، میئرز، کونسلرز، چرچ ممبران اور چیدہ افسران نے شمولیت کی۔حضور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔" آج کل بعض لوگ اس بات کے لئے مذہب کو قصور وار ٹھہراتے ہیں کہ مذہب نے دنیا میں تفرقہ ڈالا ہے۔یہ خدا اور مذہب کے ساتھ عجیب اور بھونڈ انداق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں آج تک کسی پیغمبر نے خدا کے نام پر قتل و غارت گری نہیں کی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو افضل المخلوقات بنایا اور سوجھ بوجھ عطا کی اور علم کو وسیع کرنے کی نصیحت کی۔اخلاق بلند کرنے کی طاقت دی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سر بسجو د ہونے اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق دی۔وہ مالک ہے ، وہ پاک ہے، وہ امن بخشتا ہے۔وہ طاقتور ہے، وہ عظیم ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی طرف منسوب ہونے والے اس کے نام پر امن بر بادکر ہیں۔اللہ تعالی امن کو برباد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔جماعت احمدیہ کا بنیادی اصول ہی محبت اور امن ہے اور اسی کی وہ تعلیم دیتی ہے۔دنیا میں انصاف کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے مگر اسی وقت جبکہ کمزور سے کمزور انسان کو بھی یہ احساس ہو کہ اس نے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اور اس کے احکامات پر چلنا ہے اور پھر ایسے افراد مجموعی رنگ میں یہ کوشش کریں کہ انہوں نے تمام کرہ ارض میں امن قائم کرنا ہے۔لیکن اگر انسان اپنے ذاتی فوائد اور ذاتی حقوق حاصل کرنے اور دوسرے کے حقوق چھینے میں کوشاں رہے گا تو وہ امن کو کبھی بھی قائم نہیں کر سکے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ خدا کو پہچانیں اور اس کی رضا حاصل کریں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوں اور پھر تمام افرا دل کر عدل اور امن پیدا کریں۔ان اصولوں پر عمل نہ کر کے ہی لیگ آف نیشنز ختم ہوئی اور یو این او بھی اسی سمت رواں ہے اور اس کی دیوار میں بھی ہلتی نظر آرہی ہیں۔اس وقت تک امن ایک خواب ہے جب تک ہر ملک اپنے حقوق کو دوسرے کے حقوق پر ترجیح دیتا رہے گا۔یہ خواب صرف اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے مگر تمام حقائق کو جاننے کے باوجود انسان نے آنکھ بند کر رکھی ہے۔آنکھ بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔اس لئے میری آپ سے التجا ہے کہ اپنے نفس کو ٹولیں اور خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھیں۔ہم اپنی آئندہ نسلوں کو اپنی غلطیوں کے نتیجے میں مفلوج اور معذور نہ بنا ئیں۔ضروری ہے کہ ہم آج امن قائم کریں اور آنے والی نسل کو معذور زندگی سے نجات دلوائیں۔ہم انہیں اندھیرے اور گہرے کھڑ میں گرنے سے بچائیں۔یہ خود غرضی کی انتہا ہوگی کہ جھوٹی عزت کی خاطر یا عارضی نفع کے لئے ہم اپنی نئی پود کا مستقل تباہ کر دیں۔" (الفضل انٹرنیشنل 18 مئی 2007ء)