ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 445
445 اور اسلام اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ترقی پذیر اور غریب اقوام کی بے غرض ہو کر خدمت کریں۔اگر ان تمام عناصر کو بروئے کار لایا جائے تو حقیقی امن کا قیام ہوگا۔" الفضل انٹر نیشنل 24 اگست 2012 ء ) کوبلنز کے ملٹری ہیڈ کوارٹر میں خطاب مورخہ 30 مئی 2012 ء کو حضور نے کو بلز (جرمنی) کے ملٹری ہیڈ کوارٹر میں اسلام میں اپنے وطن سے محبت اور وفاداری کے موضوع پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "سب سے پہلے تو یہ اسلام کا بنیادی اور اہم اصول ہے کہ ایک شخص کے قول اور فعل میں کسی بھی پہلو سے دوہرا پن یا منافقت نہیں ہونی چاہئے۔حقیقی وفاداری ایک ایسا تعلق چاہتی ہے جو موافقت اور ہم آہنگی پر مبنی ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک انسان ظاہر میں جس بات کا اظہار کرے باطن میں بھی وہی چیز اس کے دل میں ہو۔جب بات قومیت کی ہو تو یہ اصول اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔کسی بھی ملک کے باسی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا اپنے ملک کے ساتھ حقیقی وفاداری اور اخلاص کا تعلق ہو۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس ملک کا پیدائشی باشندہ ہے یا اس نے وہ شہریت بعد میں امیگریشن یا کسی اور وجہ سے حاصل کی ہے۔وفاداری ایک بہت بڑی خوبی ہے اور خدا کے انبیاء وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کا سب سے اعلیٰ اظہار کرتے ہیں اور اس کے انتہائی بلند معیار باندھتے ہیں۔ان کا اپنے خدا سے تعلق اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ ان کی توجہ کا محور اس کے احکام ہوتے ہیں اور وہ اسی کوشش میں ہوتے ہیں کہ کس طرح ان پر مکمل طور پر عمل کیا جاسکے۔اس بات سے ان کے اپنے خدا سے تعلق کا اور کامل وفاداری کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی وفا کے اسی معیار کو ہمیں اپنے لئے بطور نمونہ سامنے رکھنا چاہئے۔تا ہم اس بارے میں مزید آگے جانے سے پہلے اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ وفاداری سے اصل میں مراد کیا ہے؟ اسلام کی تعلیم کے مطابق وفاداری کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان ہر سطح پر اپنے عہد و پیمان کو کامل طور پر پورا کرے خواہ کیسی ہی مشکل صورتحال کیوں نہ ہو۔یہ وفاداری کا وہ معیار ہے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کیونکہ وہ اپنے تمام عہدوں کے بارے میں جوابدہ ہوں گے۔مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ اپنے تمام عہدوں کا ایفاء کریں۔اُن عہدوں کو بھی جو انہوں نے خدا سے کئے ہیں اور اسی طرح دوسرے اہم معاملات میں کئے گئے عہدوں کو بھی وہ پورا کریں۔۔۔۔۔وفاداری کے ضمن میں قرآن مجید کی ایک اور تعلیم یہ بھی ہے کہ لوگوں کو ایسی تمام چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے جو غیر شریفانہ اور نا پسندیدہ ہوں اور اپنے اندر سرکشی کا کوئی انداز رکھتی ہوں۔" الفضل انٹر نیشنل 10 اگست 2012 ء )