ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 444
444 اور حقیقی تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور اس کا پر چار کرتے ہیں۔اس لئے جو کچھ بھی قیام امن کے لئے اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بیان کروں گا۔اس کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہوگی۔۔۔۔۔اسلام انصاف پر قائم کئے جانے والے بین الاقوامی تعلقات اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کیا کہتا ہے؟ سورة الحجرات آیت نمبر 14 میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔یہ تقسیم ہر گز کسی قسم کی برتری کاحق نہیں دیتی۔چنانچہ قرآن کریم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تمام لوگ پیدائشی طور پر برابر ہیں۔مزید یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری خطاب فرمایا اس میں تمام مسلمانوں کو یہ تاکید کی کہ وہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کوعربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی درس دیا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔چنانچہ یہ اسلام کی واضح تعلیم ہے۔تمام قومیتیں اور نسلیں برابر ہیں۔اسلامی تعلیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو بغیر کسی تفریق اور تعصب کے مساوی حقوق فراہم کئے جائیں۔یہ وہ کلیدی اور سنہرا اصول ہے جو قیام امن کے لئے مختلف گروہوں اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی کی بنیاد رکھتا ہے۔اس کے برخلاف آج ہم دیکھتے ہیں کہ طاقتور اور کمزور قو میں باہم جدا اور منقسم ہیں۔مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں بعض ممالک کے مابین تفریق کی گئی ہے اور سکیورٹی کونسل میں کچھ مستقل رکن ممالک ہیں اور کچھ غیر مستقل رکن ممالک ہیں۔یہ تقسیم اندرونی طور پر بے چینی اور ذہنی اضطراب کا باعث بنی ہے اور ہم آئے دن ایسی خبریں سنتے رہتے ہیں کہ بعض ممالک اس نا انصافی پر سراپا احتجاج ہیں۔۔۔۔۔قرآن کریم میں سورۃ الحجر کی آیت نمبر 89 میں بھی اقوام کے مابین قیام امن کے لئے انصاف کی ضرورت کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ کسی بھی قوم کو دوسروں کے اموال اور وسائل پر حاسدانہ نظر نہیں رکھنی چاہیے۔پس کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کی مدد اور تعاون کرنے کا جھوٹا بہانہ بنا کر اس ملک کے وسائل پر غیر منصفانہ طور پر قبضہ نہیں کرنا چاہئے۔پس غریب ممالک کو تکنیکی مہارت اور دیگر امداد کی فراہمی کو بنیاد بنا کر ان کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی معاہدے کرتے ہوئے ان سے فوائد حاصل نہیں کرتے چاہئیں۔اسی طرح تکنیکی مہارت اور دیگر امداد کی فراہمی کو بنیاد بنا کر ترقی پذیر ممالک کے قدرتی وسائل اور اثاثوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ نسبتا کم خواندہ قوموں اور حکومتوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو کس طرح بہتر طور پر استعمال کریں۔اقوام اور حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ ترقی پذیر اقوام کی خدمت کرنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔تاہم یہ خدمت قومی یا سیاسی فوائد حاصل کرنے کی نظر سے نہ ہو اور نہ ہی ذاتی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ ہو۔۔۔۔اسلام ہماری توجہ قیام امن کے ذرائع کی طرف مبذول کرواتا ہے۔اسلام مکمل انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔اسلام ہمیشہ سچی گواہی دینے کا تقاضا کرتا ہے کہ ہماری حاسدانہ نظریں دوسروں کے اموال پر نہ پڑیں