ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 443 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 443

443 دشمنی بڑھتی ہے۔کبھی یہ ہوس توسیع پسندانہ عزائم سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی اس کا اظہار قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے سے ہوتا ہے۔اور کبھی یہ ہوس اپنی برتری دوسروں پر ٹھونسنے کی شکل میں نظر آتی ہے۔یہی لالچ اور ہوس ہے جو پھر ظلم کی طرف لے جاتی ہے۔خواہ یہ بے رحم جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہو جو اپنے مفادات کے حصول کے لئے لوگوں کے حقوق غصب کر کے اپنی برتری ثابت کرتے ہیں یا جارحیت کرنے والی افواج کے ہاتھوں سے ہو۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مظلوموں کی چیخ و پکار کے نتیجہ میں بیرونی دنیا مدد کے لئے آجاتی ہے۔بہر حال جو بھی اس کا نتیجہ ہو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنہری اصول سکھایا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔صحابہ نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ظالم کی مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھوں کو ظلم سے روک کر، کیونکہ بصورت دیگر اس کا ظلم میں بڑھنا اُسے خدا کے عذاب کا مورد بنادے گا۔پس اس پر رحم کرتے ہوئے اسے بچانے کی کوشش کرو۔یہ وہ اصول ہے جو معاشرے کی چھوٹی اکائی سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اطلاق پاتا ہے۔کیپٹل ہل میں خطاب جماعت احمدیہ کی تاریخ میں 27 جون 2012ء وہ تاریخی دن تھا۔جب امام جماعت احمدیہ کو دنیا بھر کی بلند ترین سپر پاور کی پارلیمنٹ میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچانا تھا۔آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا: امن اور انصاف لازم و ملزوم ہیں۔یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے بغیر دوسرا مقصد حاصل ہو جائے اور یقینا یہ ایک ایسا اصول ہے جسے تمام شعور رکھنے والے اور عقلمند بخوبی جانتے ہیں۔اگر ان لوگوں کو الگ چھوڑ دیا جائے جن کا مقصد ہی فتنہ کھڑا کرنا ہے۔تو کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جو یہ کہ سکتا ہو کہ کسی ایسے معاشرہ میں، ملک میں حتیٰ کہ ساری دنیا میں جہاں انصاف اور کھرے معاملات کا بول بالا ہو وہاں فساد یا امن کا فقدان ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے علاقوں میں فساد اور بدامنی غالب ہے اور ایسے فساد اندرونی طور پر ملکی سطح پر بھی اور بیرونی طور پر ممالک کے مابین تعلقات میں بھی نظر آرہے ہیں۔حکومتیں اپنی پالیسیز (Policies) کے انصاف پر مبنی ہونے کی دعویدار ہیں اور قیام امن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں اس قسم کے تنازعات اور فساد نظر آتے ہیں۔پھر عمومی طور پر اس بات میں بھی شک نہیں کہ دنیا میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے اور اسی طرح بدامنی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ ضرور کہیں نہ کہیں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جار ہے۔لہذا جہاں کہیں بھی اور جب کبھی بھی نا انصافی کی گئی ہے، اسے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔۔احمد یہ مسلم جماعت خالصتاً ایک مذہبی جماعت ہے۔یہ ہمارا کامل ایمان ہے کہ وہ مسیح اور مصلح جس نے اس زمانے میں دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کی طرف ہدایت دینے کے لئے آنا تھا، وہ یقیناً آچکا ہے۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی (علیہ السلام ) وہی مسیح اور مصلح ہیں۔پس ہم ان کو مان چکے ہیں اور ان کی تعلیمات کے تحت ہم قرآن کریم میں بیان کردہ اسلام کی اصل