ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 442
442 ہے۔میں اس کے لئے آپ کا شکر گزار ہوں۔ایسے نازک احساسات کو ٹھیس پہنچانے سے نفرتوں میں اضافے کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے۔یہ نفرت پھر بعض انتہا پسند مسلمانوں کو ایسی حرکتیں کرنے پر آمادہ کرتی ہے جو سراسر غیر اسلامی ہیں۔جن کے نتیجہ میں کئی غیر مسلموں کو پھر موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی مخالفت کا اظہار کریں۔ان حملوں سے ان لوگوں کو جو انتہا پسند نہیں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت رکھتے ہیں شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ان میں جماعت احمد یہ سر فہرست ہے۔ہمارا سب سے زیادہ اہم کام ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اسوہ اور اسلام کی حسین تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ہم تمام انبیاء کا سچا احترام کرتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ یہ سب خدا کے فرستادہ تھے۔اس لئے ہم تو ان میں سے کسی کے خلاف کوئی بے ادبی نہیں کر سکتے لیکن جب ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات سنتے ہیں تو ہمارے دل بے حدر نجیدہ ہو جاتے ہیں۔آج جب کہ دنیا مختلف بلاکوں میں تقسیم ہو رہی ہے، انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور مالی اور اقتصادی صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے۔اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ ہرقسم کی نفرتوں کو مٹا دیا جائے اور امن کی بنیا دوں کو استوار کیا جائے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ باہم ایک دوسرے کے ہر قسم کے جذبات کا خیال رکھا جائے۔اگر یہ کام صحیح رنگ میں پوری ایمان داری اور نیکی کے ساتھ نہ کیا گیا تو حالات اور زیادہ ابتر ہو جائیں گے اور پھر ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں رہے گا۔یہ ایک قابل تحسین بات ہے کہ اقتصادی طور پر مضبوط مغربی ممالک نے غریب اور پسماندہ ممالک کے افراد کو اپنے ملکوں میں آکر آباد ہونے کی اجازت دی ہے۔ان لوگوں میں مسلمان بھی ہیں۔حقیقی عدل کا تقاضا ہے کہ ان لوگوں کے جذبات اور مذہبی سرگرمیوں کا بھی احترام کیا جائے۔یہ وہ طریق ہے جس کو اختیار کر کے لوگوں کے ذہنی اطمینان کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب کسی انسان کا ذہنی اطمینان اٹھ جائے تو پھر معاشرے کا امن بھی متاثر ہوتا ہے۔۔۔ابتدائی تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ اس تعلیم پر عمل کیا گیا تھا اور عدل وانصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے تھے۔میں یہاں اس کی بہت زیادہ مثالیں تو پیش نہیں کر سکتا مگر تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کوئی انتقام نہیں لیا تھا جنہوں نے آپ کو شدید تکالیف دی تھیں۔آپ نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا تھا بلکہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے دین پر قائم رہیں۔آج بھی امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب دشمن کے لئے بھی عدل کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں اور ایسا صرف مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر تمام جنگوں میں بھی کیا جانا چاہئے۔اس طرح جو امن حاصل ہوگا در حقیقت وہی پائیدار امن ہو سکتا ہے۔۔۔۔آج بھی بے چینی بڑھ رہی ہے وہ جنگیں اور دیگر اقدامات جو امن کو قائم کرنے کی خاطر کئے جا رہے ہیں ایک اور عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔موجودہ اقتصادی اور سماجی مسائل اس صورت حال میں اور بھی زیادہ ابتری کا باعث بن رہے ہیں۔قرآن کریم نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے بعض سنہری اصول عطا فرمائے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہوس سے،