ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 441
441 معاشیات کو بہتر کرنے کے لئے ہو میں قرآن کریم سے مواد لے کر تیار کرتا ہوں۔جن میں برطانوی پارلیمنٹ کیپٹل بل واشنگٹن امریکہ، بیجیم میں یورپین پارلیمنٹ، نارو تکین پارلیمنٹ اور کو بلز جرمنی کے ملٹری ہیڈ کوارٹر میں حضور کے نہایت اہم ، اثر انگیز اور بصیرت افروز تاریخی خطاب شامل ہیں۔ان خطابات نے توہین رسالت کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو بے اثر کر دیا اور اسلام کا چہرہ پورے آب و تاب کے ساتھ اقصائے عالم پر ایک بار پھر ظاہر ہوا۔ان خطابات کا سلسلہ برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے شروع ہوا۔برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب حضور نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بنفس نفیس حاضر ہو کر مورخہ 22 اکتوبر 2008ء کو جو تاریخی خطاب فرمایا۔اس میں سے چند حصے پیش ہیں۔آپ نے فرمایا۔"اگر چہ جماعت احمد یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن یادر ہے کہ یہ اسلام کی کچی تعلیمات کی حقیقی علمبر دار اور نمائندہ ہے۔ہر احمدی جو برطانیہ میں بستا ہے ایک محب وطن اور وفادار شہری ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا لازمی جزو ہے۔۔۔۔۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی خلافت احمدیہ ہمیشہ دنیا میں امن و آشتی کی حقیقی علمبردار کے طور پر جانی جاتی رہے گی۔جس ملک میں بھی احمدی رہتے ہوں گے وہ اپنے ملک کے وفادار رہیں گے۔۔۔۔۔آج دنیا ایک اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے چھوٹے پیمانے پر جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔بعض جگہوں پر بڑی طاقتیں یہ دعوی کر رہی ہیں کہ ہم امن کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔اگر عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہ کے گئے تو ان چھوٹی چھوٹی جنگوں کے شعلے بہت بلند ہو جائیں گے اور ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔۔۔۔۔مسلمانوں کے بعض گروہ مذہب کے نام پر نا جائز حملے یا خود کش دھما کے کرتے ہیں تا کہ غیر مسلموں کو جن میں فوجی اور معصوم شہری بھی شامل ہیں نقصان پہنچائیں یا ہلاک کریں جس کے نتیجہ میں معصوم مسلمان، یہاں تک کہ بچے بھی نہایت بے رحمی سے مارے جارہے ہیں۔اسلام اس ظالمانہ فعل کو کلیتار دکرتا ہے بعض مسلمانوں کے اس بھیانک طرز عمل کی وجہ سے غیر مسلم ممالک میں ایک بالکل غلط تاثر پیدا ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرے کے بعض طبقات علی الاعلان اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔جبکہ بعض دوسرے ایسے ہیں جو اگر چہ کھلم کھلا اظہار تو نہیں کرتے مگر دلوں میں اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے بھی نہیں رکھتے۔یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے مغربی ممالک اور دیگر غیر مسلم ممالک کے لوگوں کے دلوں میں ان چند مسلمانوں کے طرز عمل کے باعث عدم اعتماد پیدا ہو گیا ہے۔بہتری کی کوئی صورت پیدا ہونے کی بجائے غیر مسلموں کا رد عمل ہر روز بد سے بدتر ہوتا چلا جارہا ہے۔اس غلط رد عمل کی ایک مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار پر اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم پر کئے جانے والے حملے ہیں۔اس لحاظ سے برطانوی سیاست دانوں،خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، اور دانشوروں کا رویہ بعض دیگر ممالک کے سیاستدانوں کے رویے سے مختلف