ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 440
440 ختم نہیں ہو جائے گی۔ان چیزوں سے تو جو مقصد یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل کریں گے۔ان کے موقف کی مزید تائید ہوگی کہ اسلام ایسا ہی مذہب ہے۔تو بہر حال ایسی حرکتوں کا حقیقی رد عمل مسلمانوں میں پیدا ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کو پہلے سے بڑھ کر اپنے اوپر لاگو کریں تا کہ دنیا کے منہ خود بخود بند ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں جس سے آپ کی اُمت روحانیت میں بھی ترقی کرنے والی ہو۔عاشق صادق کی تقلید میں آنحضور کے اسوہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں آپ کے اسوہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔لیکن یہ کام آج اگر کوئی کر سکتا ہے تو احمدی کر سکتا ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو مانا ہے۔آج اگر معترضین کے جواب دے سکتے ہیں تو احمدی دے سکتے ہیں۔آج اگر اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو دکھا سکتے ہیں تو احمدی دکھا سکتے ہیں۔پس آج احمدی کا فرض ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اس بارے میں کوشش کرے، پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔رشدی کی کتاب کا جواب کتابی شکل میں جب رشدی نے بدنام زمانہ کتاب لکھی تھی اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ارشد احمدی صاحب سے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھوائی تھی۔جس کا نام تھا Rushdi-Haunted by his unholy ghost۔اب سٹاک میں نہیں تھی یاتھی تو بہت تھوڑی۔مزید کچھ تبدیلیاں بھی ہوئی تھیں۔ایک باب کا جو مزید اضافہ ہے جس کے بارے میں کچھ ہدایات حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے دی تھیں ان کو سمجھا گئے تھے تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اس کو دوبارہ شائع کریں۔کچھ عرصہ ہوا ایک پبلشنگ کمپنی نے نام تو مجھے یاد نہیں رہا بہر حال اس نے اس کو شائع کیا تھا جو خود ہی اس کی مارکیٹنگ بھی کر رہے ہیں اور جماعت بھی اب اس کو شائع کر رہی ہے۔اب جلد انشاء اللہ آ جائے گی۔اس کا اُردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔یہ پڑھے لکھے طبقے اور سنجیدہ طبقے کو دینی چاہئے تا کہ دنیا کے سامنے حقیقت بھی آئے۔تو یہ ہے خدمت جس سے اسلام کے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتہ چلے گا اور دنیا کے فساد دور کرنے کے حقیقی راستوں کا بھی علم ہوگا۔" خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 258 تا 264) امن کانفرنسز و سمپوزیم (Symposium) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ناموس رسالت کی حفاظت اور اسلامی تعلیم کی سر بلندی کے لئے اپنے خطبات و تقاریر میں احباب جماعت کو جن عملی اقدام اٹھانے کی طرف توجہ دلائی۔ان میں ایک، دنیا بھر میں امن کانفرنسز اور سمپوزیم کا انعقاد تھا۔بعض کا نفرنسز میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی۔آپ کے مبارک تاریخی دور خلافت میں حکومتی اور ملکی سطح پر پارلیمنٹس سے خطاب بھی شامل ہیں۔ان تمام خطابات میں آپ نے اسلامی تعلیم کوفوقیت دی۔بلکہ ایک موقع پر ایک صحافی کے سوال پر آپ نے فرمایا کہ میرا خطاب خواہ سیاسی ہو یا مذہبی یا